طالبان نے مجھے ٹوتھ پیسٹ اور صابن دیا تھا




ٹرمپ انتظامیہ کی اٹارنی کے پناہ گزین بچوں کے بارے میں بیان کے بعد ٹوئٹر پر ہلچل: ’طالبان نے مجھے ٹوتھ پیسٹ اور صابن دیا تھا‘


ماضی میں طالبان اور صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے والی مغویوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں اپنی اور امریکہ کی حراست میں حالیہ پناہ گزینوں کی حالتِ زار کا موازنہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہاں کم از کم انھیں ٹوتھ پیسٹ اور صابن ضرور دیا جاتا تھا۔


ان کے یہ پیغامات امریکی محکمہ انصاف کی وکیل کے اس بیان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انھوں نے سان فرانسیسکو کی ایک عدالت کو بتایا تھا کہ حراستی مراکز میں پناہ گزین بچوں کو ٹوتھ پیسٹ اور صابن کی کوئی ضرورت نہیں۔


سارہ فیبیئن کے اس بیان پر جج اے ویلس تاشیما نے کہا: ’میرے خیال میں یہ عام فہم ہے کہ اگر آپ کے پاس ٹوتھ برش نہ ہو، صابن نہ ہو، کمبل نہ ہو، تو یہ غیر محفوظ اور مضرِ صحت ہے۔۔۔ کیا آپ کو اس سے اتفاق نہیں ہے؟‘


اٹارنی سارہ فیبیئن نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے پناہ گزین بچوں کو حراستی مراکز میں رکھتے ہوئے 1997 کے فلورز معاہدے کی کسی شق کی خلاف ورزی نہیں کی۔ فلورز معاہدے کے تحت پناہ گزینوں کو محفوظ اور صفائی والی سہولیات مہیا کی جانی ضروری ہیں۔


حکومتی اٹارنی نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت اس طرح کی سہولیات جیسا کہ صابن، ٹوتھ برش اور حتٰکہ آدھی رات کی نیند کی بھی پابندی نہیں ہے۔


ان کے اس بیان کے بعد امریکہ اور دنیا بھر سے ان کی شدید مذمت کی گئی اور سوشل میڈیا پر ان پر بہت تنقید ہوئی۔ صومالی بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے والے صحافی مائیکل سکاٹ مور کی ٹویٹ اسی تنقید کے تناظر میں تھی۔


انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا: ’صومالی قذاقوں نے مجھے ٹوتھ پیسٹ اور صابن دیا تھا۔‘


مائیکل مور کو صومالی بحری قذاقوں نے سنہ 2012 میں اغوا کیا تھا اور وہ دو سال ان کی حراست میں رہے تھے۔ ان کی رہائی تقریباً 20 لاکھ ڈالر تاوان دے کر عمل میں آئی تھی۔


اسی طرح جریدے ’دی نیو یارکر‘ کے آن لائن نیوز ڈائریکٹر ڈیوڈ رہوڈ کو بھی 2008 میں کابل کے نواح سے طالبان نے اغوا کیا تھا۔ وہ اپنے مترجم کے ہمراہ آٹھ ماہ بعد طالبان کی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ انھوں نے بھی اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ’طالبان نے مجھے ٹوتھ پیسٹ اور صابن دیا تھا۔‘


ان امریکی حراستی مراکز کے بارے میں ایسی مزید رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں جن کے مطابق وہاں مضرِ صحت حالات، گنجائش سے زیادہ لوگ اور نامناسب سہولیات ہیں جن میں بچوں کا بغیر کمبلوں کے زمین پر سونا بھی شامل ہے۔


پیر کو کانگریس کی رکن الیگزینڈریا اوکیسیو کورٹیز نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر میکسیکو کی سرحد کے ساتھ بنائے گئے امریکی حراستی مراکز کو دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی کے کنسنٹریشن کیمپوں یا حراستی مراکز سے تشبیہہ دی تھی۔


انھوں نے لکھا کہ ’یہ حقیقت کہ کنسنٹریشن کیمپ اب ’ہوم آف فری‘ (آزاد دنیا کے گھر) میں ایک رواج بن چکا ہے حد سے زیادہ تکلیف دہ ہے اور ہمیں اس کے متعلق کچھ کرنا چاہیے۔‘


انھوں نے ٹوئٹر پر ٹرمپ انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔


وسطی امریکہ کے انتہائی غربت اور غیر محفوظ حالات سے بھاگ کر آنے والے ہزاروں پناہ گزین امریکہ میں پناہ کے طلب گار ہیں۔


سنہ 2018 میں جنوب مغربی سرحد پر امریکی امیگریشن اہلکاروں نے 396579 افراد کو حراست میں لیا تھا۔ ایک سال قبل یہ تعداد 303916 تھی۔


سنہ 2018 میں پناہ کے لیے آنے والے افراد کو، جن میں اکثریت وسطی امریکہ سے آنے والوں کی تھی، سرحد پر گرفتار کر لیا گیا اور ان کے بچوں کو ان سے علیحدہ کر دیا گیا تھا۔


ٹرمپ حکومت کے اٹارنی کے بیان پر واویلا مچنے کے بعد ٹیکساس کے حراستی مراکز سے تقریباً 250 بچوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کر دیا گیا ہے۔


ان حراستی مراکز کا دورہ کرنے والے وکلا نے بتایا کہ وہاں بچوں کی نامناسب دیکھ بھال کی جاتی تھی۔


ایک وکیل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بچوں کو خوفناک سیلوں میں رکھا جاتا تھا جہاں ٹوائلٹ کمرے کے درمیان میں ہوتے تھے اور وہیں سوتے اور کھاتے تھے۔‘


اوریگون کی ولیمیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر وارن بنفورڈ نے بھی ٹیکساس کے کلنٹ حراستی مرکز کا دورہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ’وہاں بچوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ کئی سو بچے ایک ویئر ہاؤس میں تھے جسے حال ہی میں حراستی مرکز میں بنایا گیا تھا۔‘


انھوں نے مزید بتایا کہ ’سیل ضرورت سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ ہر طرف جوئیں ہیں، انفلوئنزا کی وبا پھیلی ہوئی ہے۔ ان بچوں کو بغیر کسی بالغ کی نگرانی میں تنہائی میں قید رکھا جا رہا ہے، جو بہت زیادہ بیمار ہیں اور وہ زمین پر پڑی صفوں پر لیٹے ہوئے ہیں۔‘


https://www.bbc.com/urdu/world-48759300