شاہد عباسی کی ذہانت نے نیب کے سورماؤں کو چِت کر دیا




شاہد عباسی کی ذہانت نے نیب کے سورمائوں کو چِت کر دیا
اسلام آباد (انصار عباسی) نیب نے شاہد خاقان عباسی سے سوال کیا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) پر قائم ایل پی جی ٹرمینل کو پیسے بچانے کیلئے کیوں استعمال نہیں کیا گیا؟ سابق وزیراعظم کا جواب تھا: ’’ایل پی جی اور ایل این جی نام بظاہر یکساں لگتے ہیں لیکن یکسانیت یہیں ختم ہو جاتی ہے۔‘‘ مذکورہ بالا جواب اس بات کی زبردست عکاسی ہے کہ نیب کے اُن سورمائوں کی تکنیکی معلومات کی سطح کیا ہے جنہوں نے شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی ٹرمینل کیس میں یہ بتائے بغیر ہی گرفتار کیا کہ سابق وزیراعظم نے کیا کرپشن کی ہے؟ دی نیوز کے پاس نیب کی جانب سے پوچھے گئے سوالات اور عباسی کے ایل این جی ٹرمینل کیس میں جوابات کی نقل موجود ہے جس کا تبادلہ شاہد عباسی کی گرفتاری سے قبل کیا گیا تھا۔ ان سوالوں اور جوابات کو پڑھ کر یہ بات سامنے آتی ہے کہ نیب میں یہ معاملہ سمجھنے کی صلاحیت نہیں، اس سے سابق وزیراعظم کی اس موضوع پر مہارت بھی ظاہر ہوتی ہے۔ جمعہ کو دی نیوز نے ایل این جی درآمد کیس کے اہم


سوالات اور ان کے جوابات شائع کیے تھے۔ قارئین کی معلومات اور دلچسپی کیلئے، نیب کے سوالوں اور شاہد عباسی کے جوابات کو یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ سوال: سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے پاس پورٹ قاسم اتھارٹی پر اپنا ایل پی جی ٹرمینل تھا؛ وہ کیا وجوہات تھیں کہ ایس ایس جی سی ایل کا اپنا ٹرمینل استعمال نہیں کیا گیا یا استعمال کرنے کیلئے اس میں ریٹرو فٹنگ (تبدیلیاں) نہیں کی گئیں اور اس کی بجائے اینگرو کا ٹرمینل کیوں استعمال کیا گیا؟ اس سے کرایے اور اینگرو کو ریٹرو فٹنگ کی مد میں کی گئی دیگر ادائیگیوں کا پیسہ بچایا جا سکتا تھا اور اپنے ہی ٹرمینل پر کام کرکے اور ریٹرو فٹنگ کرکے بھی پیسہ بچایا جا سکتا تھا؟ جواب: مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے نام ایک جیسے لگتے ہیں لیکن ان ناموں کی یکسانیت یہیں ختم ہو جاتی ہے؛ ایل پی جی اور ایل این جی میں مکمل طور پر مختلف کیمیکل ہوتا ہے اور ان کی طبعی حالت اور خصوصیات بھی مختلف ہوتی ہیں ا ور انہیں سنبھالنے کا طریقہ کار بھی مکمل طور پر مختلف ہے۔ ایل پی جی ٹرمینلز بنیادی طور پر مال اتارنے (اَن لوڈنگ) ٹرمینلز ہوتے ہیں جہاں ایل پی جی، جو آتشگیر مائع ہوتی ہے اور اسے مناسب درجہ حرارت پر رکھا جاتا ہے، کو اتارا جاتا ہے اور انہیں ایل پی جی کیلئے مخصوص ٹینکرز میں رکھا جاتا ہے، جن کا سائز 15؍ ہزار میٹرک ٹن سے کم ہوتا ہے، اسے یہاں سے پائپ لائنز کی مدد سے مائع شکل میں اسٹوریج ٹینکوں میں رکھا جاتا ہے۔ ایل این جی ٹرمینلز پیچیدہ مقامات ہوتے ہیں جہاں ایل این جی، جو بنیادی طور پر قدرتی گیس ہوتی ہے اور مائع حالت میں ہوتی ہے، اسے انتہائی کم درجہ حرارت پر یعنی 110؍ ڈگری کیلون (منفی 265؍ ڈگری فارن ہائیٹ / منفی 160؍ ڈگری سینٹی گریڈ) پر ایٹماسفیرک پریشر پر رکھا جاتا ہے، اسے ایل این جی کے مخصوص ٹینکرز میں نکالا جاتا ہے جن کا سائز 50 ؍ ہزار میٹرک ٹن سے زیادہ ہوتا ہے، اور اس کے بعد اسے انتہائی کم درجہ حرارت پر مخصوص مقامات پر منتقل کیا جاتا ہے جو پانی کی سطح پر تیرتے ہیں یا زمین پر قائم کیے جاتے ہیں اور یہاں ری گیسی فکیشن پلانٹ بھی ہوتا ہے جہاں مائع کو قدرتی گیس میں تبدیل کیا جاتا ہے اور گیس پائپ لائنوں کی مدد سے ہائی پریشر پر گیس یوٹیلیٹی کے ترسیل و تقسیم سسٹم میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ ایل این جی ٹرمینلز اور ایل پی جی ٹرمینلز میں کوئی ہم کاری (Synergy) نہیں ہے، اور ایل پی جی ٹرمینل کو ایل این جی ٹرمینل میں تبدیل کرنے سے کوئی مالی فائدہ نہیں ہوگا۔ درحقیقت، اگر ایسی کسی تبدیلی کی کوشش بھی کی جائے تو ایل پی جی ٹرمینل ختم ہو جائے گا اور اسے پرزہ پرزہ کرکے ختم کرنے (Dismantle) کرنے سے ایل این جی ٹرمینل قائم کرنے کے اخراجات بڑھ جائیں گے۔ ایس ایس جی سی نے پورٹ قاسم پر ایل پی جی اتارنے کیلئے ٹرمینل حاصل کیا جو عموماً تین ہزار میٹرک ٹن کی حد میں آنے والے جہازوں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے؛ یہ پاکستان کا واحد بحری ایل پی جی ٹرمینل ہے۔ یہی ٹرمینل حکومت پاکستان کیخلاف لندن میں عالمی ثالثی عدالت میں 2013ء میں زیر سماعت 750؍ ملین ڈالرز کے معاملے میں مقدمہ کا موضوع تھا۔ ایس ایس جی سی نے دسمبر 2011ء میں ایل پی جی ٹرمینل کی سائٹ پر 400؍ ملین کیوبک فٹ یومیہ (ایم ایم سی ایف ڈی) کا ایل این جی ٹرمینل لگانے کی کوشش کی اور اس مقصد کیلئے ایل پی جی ٹرمینل ریٹرو فٹ پروجیکٹ کے طور پر ٹینڈرز بھی جاری کیے۔ ٹینڈرنگ کے عمل کے نتیجے میں صرف ایک بولی وصول ہوئی جو دبئی میں قائم کمپنی کی جانب سے دی گئی تھی، اس کا نام 4Gas Asia تھا، کمپنی نے 0.84؍ ڈالرز میٹرک ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) کا ریٹ دیا۔ بولیوں کی پیشکش اگست 2013ء میں کھولی گئیں لیکن کنٹریکٹ کسی کو نہیں دیا گیا جس کی بنیادی وجہ پی پی آر اے کے قواعد و ضوابط میں وضع کردہ حدود تھیں اور ممکنہ طور پر یہ وجہ بھی تھی کہ 4Gas Asia کی ہالینڈ میں قائم اصل کمپنی 4Gas دیوالیہ ہو چکی تھی۔ ایس ایس جی سی ایل کے ایل پی جی ٹرمینل ریٹروفٹ پروجیکٹ پر بولی کے تھوڑا عرصہ بعد ہی 4Gas Asia بھی دیوالیہ ہوگئی۔ ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ کے ٹینڈر پراسیس میں شامل ہونے والے مسابقتی بڈرز کو اجازت تھی کہ وہ کوئی بھی مقام (سائٹ) منتخب کر سکتے تھے، لیکن شرط یہ تھی کہ انہیں پورٹ قاسم اتھارٹی کے طے کردہ معیارات پر پورا اترنا ہوگا۔ پورٹ قاسم اتھارٹی نے ای ای ٹی پی ایل (اینگرو) کو اجازت نامہ / منظوری / لائسنس جاری کیا۔ وزارت پیٹرولیم اینڈ نیچرل ریسورسز کا اس معاملے میں کوئی کردار نہیں تھا کیونکہ بولی دینے والا خود ہی تمام قانونی اور ضابطے کے معاملات طے کرنے اور نیلامی کی دستاویزات میں متعین کردہ وقت پر کام مکمل کرنے اور ایل این جی ٹرمینل کے قیام کیلئے مشاورت بشمول فائدہ مند ہونے کی صورت میں ایل پی جی ٹرمینل کو تبدیل کرنے کا ذمہ دار تھا۔ بولی دینے والوں میں سے کسی نے بھی ایل پی جی ٹرمینل کو تبدیل کرنے (کنورژن) کا انتخاب نہیں کیا، شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ایسے کسی بھی کنورژن کے نتیجے میں کوئی مالی فائدہ نہیں تھا۔ سوال: ایل ایس اے کے تحت مختلف مد میں اینگرو کو کی جانے والی مختلف ادائیگیوں پر کس نے مذاکرات کیے؟ آئی ایس جی ایس اور ایس ایس جی سی ایل کے حوالے سے فیصلہ سازی میں آپ کا کیا کردار تھا؟ جواب: ایل این جی سروسز ایگریمنٹ (ایل ایس اے) کے تحت اینگرو ایلنجی ٹرمینل پرائیوٹ لمیٹڈ کو کی جانے والی مختلف ادائیگیوں پر مذاکرات نہیں کیے گئے تھے؛ اس ضمن میں قیمتیں پی پی آر اے کے وضع کردہ دو سطحوں پر مشتمل مسابقتی اور شفاف ٹینڈرنگ پراسیس کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں۔ ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ کے معاملے میں میرا کردار نگرانی کا تھا کیونکہ میں وزارت پیٹرولیم اینڈ نیچرل ریسورسز کا وزیر تھا۔ آٗی ایس جی ایس (انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز لمیٹڈ) اور ایس ایس جی سی کی انتظامیہ اور بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ کیلئے ٹینڈرنگ کا عمل QED کنسلٹنگ کمپنی اور دیگر کنسلٹنٹس کے ساتھ مل کر مکمل کیا۔ سوال: 2011ء اور 2012ء میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اس وقت ڈاکٹر عاصم حسین کے دور کے قائم کیے گئے انٹی گریٹڈ سسٹم سے ہٹنے کی وجوہات کیا تھیں؟ جواب: 2005ء میں ق لیگ کی حکومت میں انٹی گریٹڈ مشعال پروجیکٹ اور 2012ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں تین انٹی گریٹڈ منصوبوں کی ناکامی سے کافی شواہد مل گئے تھے کہ انٹی گریٹڈ پروجیکٹس موزوں نہیں اور یہ پاکستان کی ایل این جی سپلائی چین کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے مالی لحاظ سے معیاری نہیں۔ ایل این جی سپلائی چین کیلئے واحد موزوں آپشن آزاد / نان انٹی گریٹڈ راستہ اختیار کرنا تھا۔ سوال: ایل این جی کی درآمد اور ایل این جی ٹرمینل ون کے حوالے سے ڈس انٹی گریٹڈ سسٹم / ٹولنگ کے حوالے سے کوئی تحقیق یا فزیبلٹی وغیرہ کرائی گئی تھی؟ اس وقت کے ورکنگ پیپرز فراہم کریں۔ یہ تجاویز کس نے تیار کی تھیں اور کس نے ان کی منظوری دی؟ جواب: یہ پاکستان کے ایل این جی سپلائی چین کے 10؍ سالہ تجربے اور ساتھ ہی 2005ء کے ق لیگ کے انٹی گریٹڈ پروجیکٹ اور 2012ء کے پیپلز پارٹی دور کے تین انٹی گریٹڈ پروجیکٹس کی ناکامی سے واضح تھا کہ انٹی گریٹڈ پروجیکٹس موزوں نہیں۔ یہ واضح تھا کہ صرف آزاد اور نان انٹی گریٹڈ راستہ اختیار کرکے کامیابی سے ساتھ مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے۔ اس بات کا بھی مشاہدہ کیا گیا تھا کہ دنیا میں تقریباً ہر غیر وقف شدہ ایل این جی سپلائی چین آزاد اور نان انٹی گریٹڈ ماڈل پر قائم کی گئی ہے۔ سوال: ڈاکٹر عاصم دور کے انٹی گریٹڈ سسٹمز سے گریز کرتے ہوئے QED کنسلٹنٹ کو انٹرنیشنل کنسلٹنٹ کے طور پر منتخب کرنے کی کیا وجوہات تھیں، یہی کمپنی ڈاکٹر عاصم کے دور میں ایل این جی ٹرمینل ون کی بولی کیلئے انٹی گریٹڈ سسٹمز کیلئے کنسلٹنٹ تھی۔ QED کنسلٹنٹ ایل این جی کے ماہر کنسلٹنٹس ہیں اور ان کے پاس پاکستان میں پہلے سے کام کا تجربہ بھی ہے۔ ان کی صلاحیت پر کوئی شک نہیں تھا کہ وہ پاکستان کو اس کے پہلے این ایل جی ٹرمینل کے قیام میں مطلوبہ سروسز اور تکنیکی معاونت فراہم کریں گے، انہیں یو ایس ایڈ نے منتخب کیا تھا کیونکہ مارکیٹ میں ان کی اچھی ساکھ ہے اور ان کے پاس تجربہ بھی ہے۔ اس کے علاوہ، QED کنسلٹنٹ کے پاس پاکستان کا تجربہ مقامی معاملات اور مسائل بالخصوص ایل این جی ٹرمینل سے وابستہ مسائل کو سمجھنے کیلئے اہم تھا، اس سے پروجیکٹ کی بروقت تکمیل میں مدد ملی۔ اس وقت یہ تجربہ بہت ضروری تھا کیونکہ ملک کی سیکورٹی صورتحال اور ایف آئی اے، نیب اور عدلیہ کی مداخلت کی وجہ سے کوئی بھی انٹرنیشنل کنسلٹنٹ پاکستان میں بولی میں حصہ لینے کیلئے تیار نہیں تھا۔ اس کے علاوہ، حکومت کیلئے بغیر تجربے اور ایل این جی ٹرمینل لگانے کیلئے ضروری خدمات کے بغیر پاکستان کیلئے براہِ راست مسابقتی انٹرنیشنل کنسلٹنٹ کی خدمات پی پی آر اے کے طے کردہ ٹینڈر پراسیس کے ذریعے بروقت حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ سوال: QED کنسلٹنٹ کون تھے؟ ایل این جی ٹرمینل ون کے بڈنگ پراسیس کیلئے تجاویز قبول کرنے سے قبل کیا آپ نے آزاد ذرائع سے QED کنسلٹنٹ کے متعلق معلومات حاصل کرکے تسلی کر لی تھی؟ اور یہ تسلی کیسے کی گئی؟ ان کنسلٹنٹس کے ایل این جی ٹرمینلز کے حوالے سے سابقہ تجربات بالخصوص انٹی گریٹڈ اور ڈس انٹی گریٹڈ سسٹمز کے حوالے سے مختصر احوال پیش کریں۔ جواب: QED کنسلٹنٹ کو یو ایس ایڈ نے ای پی پی کے تحت ایل این جی ٹرمینل لگانے میں مدد فراہم کرنے کیلئے منتخب کیا تھا۔ یو ایس ایڈ کے انتخابی عمل نے QED کنسلٹنٹ کو منتخب کرنے کے معاملے کو کافی ساکھ دی۔ اس کے علاوہ، QED کنسلٹنٹ کو ایس ایس جی سی نے بھی مسابقتی ٹینڈرنگ پراسیس کے ذریعے تین انٹی گریٹڈ ایل این جی پروجیکٹس اور ایل پی جی ٹرمینل ریٹروفٹ پروجیکٹ کیلئے کنسلٹنٹ منتخب کیا تھا۔ QED کی صلاحیتوں اور تجربے کے حوالے سے تفصیلات ان کی ویب سائٹ qedgas.com پر موجود ہے۔ QED کنسلٹنٹ کے علاوہ، یو ایس ایڈ نے واٹس فارلے اینڈ ولیمز کی خدمات کو بھی منتخب اور فراہم کیا تاکہ ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ کیلئے قانونی معاونت فراہم کی جا سکے اور ساتھ ہی ای سی آئی ایل، گریناڈا، سیل ہورن، اور سی پورٹ کی خدمات بھی حاصل کیں تاکہ پورٹ قاسم اتھارٹی کو ایل این جی ٹرمینل آپریشنز کیلئے تکنیکی معاونت فراہم کی جا سکے۔ سوال: QED کنسلٹنٹ کو منتخب کرنے کا طریقہ کار کیا تھا؟ کتنی ادائیگی کی گئی اور کس نے کی؟ جواب: جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ QED کنسلٹنٹ کو یو ایس ایڈ نے اپنے شفاف اور سخت مسابقتی عمل کے ذریعے پاکستان کیلئے اپنی انرجی پالیسی پروگرام (ای پی پی) کے تحت منتخب کیا تھا۔ QED کو کی جانے والی تمام ادائیگیاں یو ایس ایڈ نے ای پی پی کے تحت کیں، حکومت پاکستان کا اس میں کوئی پیسہ شامل نہیں تھا۔ سوال: QED کنسلٹنٹ کو ایل این جی ٹرمینل کا انٹرنیشنل کنسلٹنٹ لگانے کی منظوری پاکستان کی جانب سے کس نے دی؟ کیا آپ نے ان کے انٹی گریٹڈ اور ڈس انٹی گریٹڈ سسٹمز کے حوالے سے تجربے کی تصدیق کی؟ اگر ہاں تو مثال پیش کریں۔ اگر جواب نہ ہے تو وجوہات بیان کریں؟ جواب: ایل این جی ٹرمینل کیلئے کنسلٹنٹ کی خدمات کی درخواست وزارت پیٹرولیم اینڈ نیچرل ریسورسز نے یو ایس ایڈ کے انرجی پالیسی پروگرام کے تحت دی تھی۔ کنسلٹنٹ کو منتخب کرنے کا عمل یو ایس ایڈ نے کیا جبکہ وزارت پیٹرولیم اینڈ نیچرل ریسورسز نے منتخب کیے گئے کنسلٹنٹ یعنی QED کنسلٹنٹ کی خدمات قبول کیں۔ یو ایس ایڈ جدید، شفاف اور مسابقتی طریقہ کار اختیار کرتا ہے، بین الاقوامی سطح پر خدمات کے حصول کیلئے اس کے پاس پانچ دہائیوں سے زیادہ کا تجربہ ہے اور وزارت پیٹرولیم اینڈ نیچرل ریسورسز کے پاس ایسی کوئی وجہ نہیں تھی کہ وہ QED کنسلٹنٹ کے انتخاب کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے کہ آیا وہ کوالیفائیڈ اور تجربہ کار کنسلٹنٹ ہے، یا اس طریقہ کار پر سوالات اٹھائے جائیں جو ہمارے اپنے پی پی آر کے طریقہ کار کے مقابلے میں زیادہ اعلیٰ معیار کا ہے۔ ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ کی بروقت تکمیل اور عالمی سطح پر دیگر ملکوں کے مقابلے میں کم قیمتوں پر ایل این جی کی ری گیسی فکیشن یو ایس ایڈ کے انتخابی عمل اور QED کنسلٹنٹ کی مہارت کا ثبوت ہے۔ سوال: کیا آپ جانتے ہیں کہ 2014ء کے فاسٹ ٹریک ایل این جی پروجیکٹ سے قبل QED کنسلٹنٹ کا ایس ایس جی سی ایل کے ساتھ کام کرنے کا سابقہ تجربہ ہے؟ جواب: جیسا کہ مذکورہ بالا سطور میں بیان کیا گیا ہے، میں یہ جانتا ہوں کہ QED کنسلٹنٹ پاکستان میں ایس ایس جی سی کے تین انٹی گریٹڈ ایل این جی پروجیکٹس اور 2012ء میں ایس ایس جی سی کے ایل پی جی ٹرمینل کے ریٹروفٹ پروجیکٹ کیلئے کام کر چکا ہے۔ مجھے اس حقیقت کا علم اُس وقت ہوا جب QED نے ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ پر کام شروع کر دیا تھا۔ سوال: ایس ایس جی سی ایل کی بجائے آئی ایس جی ایس کو ایل این جی ٹرمینل ون قائم کرنے کا کام کیوں سونپا گیا؟ جواب: ایران پاکستان (آئی پی) گیس پائپ لائن اور ترکمانستان افغانستان پاکستان انڈیا (ٹاپی) گیس پائپ لائن پروجیکٹ کے تحت آئی ایس جی ایس کا بڑے بین الاقوامی گیس امپورٹ ٹھیکوں کی ڈویلپمنٹ اور انہیں فعال بنانے کا تجربہ ایل پی جی ٹرمینل پروجیکٹ کی پروکیورمنٹ کیلئے ڈویلپمنٹ اور اسے فعال بنانے کے معاملے میں استعمال کیا گیا۔ آئی ایس جی ایس 100؍ فیصدی حکومت پاکستان کی کمپنی ہے۔ QED کنسلٹنٹ نے ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ کیلئے تکنیکی معاونت فراہم کی تھی۔ بولی کا پورا عمل آئی ایس جی ایس کے سپرد نہیں کیا گیا تھا، آئی ایس جی ایس کو وزارت پیٹرولیم اینڈ نیچرل ریسورسز نے مینڈیٹ دیا تھا کہ وہ پروجیکٹ میں رابطہ کاری کا کام کرے۔ ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ کیلئے ایس ایس جی ایس پروکیورنگ ایجنسی رہی، اور اس کے نمائندوں نے پروجیکٹ کی ہر سطح پر فیصلہ سازی کا کام کیا۔ آئی ایس جی ایس اور ایس ایس جی سی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اس انتظام کی منظوری دی؛ اس کے علاوہ، پی پی آر اے نے اس انتظام پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ سوال: کیا آپ کو علم ہے کہ ایس ایس جی سی ایل کے پاس کوالیفائیڈ / تجربہ کار انجینئرز موجود تھے؟ میں 2013ء سے 2018ء تک وزیر برائے وزارت پیٹرولیم اینڈ نیچرل ریسورسز تھا اور مجھے علم ہے کہ ایس ایس جی سی کے پاس کیا تجربہ اور کیا اہلیت موجود ہے۔ مجھے یہ علم تھا کہ ایس ایس جی سی کے پاس پیچیدہ انٹی گریٹڈ نیچرل گیس امپورٹ پروجیکٹس یا بڑے بین الاقوامی انفرا اسٹرکچر کے ٹھیکوں بالخصوص ٹولنگ فیس کی بنیاد پر چلنے والے پروجیکٹس جیسا کہ یہ ایل این جی پروجیکٹ ہے، کے متعلق تجربہ نہیں تھا۔ سوال: کیا ایس ایس جی سی ایل کو ایل این جی ٹرمینل اور ایل این جی کے حصول وغیرہ کے معاملے میں نیلامی / بولی کے عمل کے حوالے سے مکمل طور پر غیر موثر / نا اہل / نا تجربہ کار سمجھ لیا گیا تھا؟ جواب: ایس ایس جی سی ایل کے پاس مطلوبہ تکنیکی معلومات یا تجربہ نہیں تھا کہ وہ پیچیدہ بین الاقوامی ٹھیکوں پر کام کر سکے یا انہیں شروع کر سکے، بالخصوص ایسے پروجیکٹس جن میں ٹولنگ فیس کی پیچیدگیاں شامل ہوں۔ ایس ایس جی سی کے تکنیکی لحاظ سے محدود ہونے کا معاملہ اس بات سے عیاں تھا کہ وہ مشعال ایل این جی، ایل پی جی ٹرمینل ریٹرو فٹ اور تین انٹی گریٹڈ ایل این جی پروجیکٹس میں ناکام ہو چکی تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ ایس ایس جی نے کوئی آئل یا ایل پی جی ریفائنری قائم کی تھی۔ ایس ایس جی سی کا بنیادی کام گیس پائپ لائنیں ہے اور ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ کی تمام گیس پائپ لائنیں ایس ایس جی سی نے بحیثیت ٹھیکے دار بچھائی تھیں۔ سوال: آئی ایس جی ایس کا مینڈیٹ کی تھا اور آیا آئی ایس جی ایس کے پاس ایل این جی کی پروکیورمنٹ کے متعلق کوئی تجربہ تھا؟ جواب: آئی ایس جی ایس (پرائیوٹ) لمیٹڈ؛ جی ایچ پی ایل، ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی ایل کی شیئر ہولڈنگ کے ذریعے 100؍ فیصدی حکومت پاکستان کی کمپنی ہے اور اسے ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ اور ترکمانستان، افغانستان، پاکستان انڈیا (ٹاپی) گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر کام کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا ہے۔ کمپنی کے پاس انٹی گریٹڈ اور اَن بنڈلڈ سسٹمز کے تحت اربوں ڈالرز مالیت کے گیس درآمدی پروجیکٹس لگانے کے حوالے سے کافی معلومات اور تجربہ ہے، ڈھانچہ جاتی لحاظ سے یہ پروجیکٹس اَن بنڈلنڈ ایل این جی پروجیکٹ جیسے ہی ہیں، جن میں ٹولنگ فیس شامل ہے، اور جو تعمیر کیے جا رہے تھے۔ پاکستان میں کسی اور سرکاری کمپنی کے پاس اتنی مہارت اور تجربہ نہیں ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پروجیکٹ اور ترکمانستان، افغانستان، پاکستان انڈیا (ٹاپی) گیس پائپ لائن پروجیکٹ، جن کی سالانہ قدر پانچ ارب ڈالرز ہے، پر مذاکرات اور ان کے معاہدوں پر کامیابی سے دستخط آئی ایس جی ایس کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ سوال: ٹولنگ فیس کے حوالے سے ایل این جی سے متعلق پروکیورمنٹ کے معاملات نمٹانے میں مسٹر مبین صولت کا کیا خاص میرٹ تھا؟ خصوصاً ان کی اہلیت، تجربہ / مہارت اور ان کی سابقہ پروکیورمنٹ سرگرمیاں کیا تھیں؟ مسٹر مبین صولت آئی ایس جی ایس کے مینیجنگ ڈائریکٹر تھے، اور ان کی قیادت میں آئی ایس جی ایس نے اربوں ڈالرز مالیت کے گیس امپورٹ پروجیکٹس، جو ڈھانچہ جاتی لحاظ سے یہ پروجیکٹس اَن بنڈلنڈ ایل این جی پروجیکٹ جیسے ہی ہیں، جن میں ٹولنگ فیس شامل ہے، اور جو تعمیر کیے جا رہے تھے، کے حوالے سے ضروری معلومات اور تجربات حاصل کیے۔ سوال: ایل این جی ٹرمینل ایوارڈ کی سرگرمیوں کے متعلق آئی ایس جی ایس اور آئی ایس جی ایس کے بورڈ کی سرگرمیوں کے حوالے سے آپ کا کیا کردار تھا؟ جواب: وفاقی وزیر برائے وزارت پیٹرولیم اینڈ نیچرل ریسورسز، وفاقی کابینہ کے رکن، کابینہ کمیٹی برائے توانائی، اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے یہ میری ذمہ داری تھی کہ پاکستان میں توانائی کے بحران کو ختم کرنے میں مدد کروں۔ ایل این جی سپلائی چین کی تعمیر، بشمول ایل این جی کی درآمدی سہولتیں پیدا کرنا توانائی کا بحران حل کرنے کی جانب اہم قدم تھا۔ ایل این جی سپلائی چین کی تیاری، بشمول پاکستان میں ایل این جی کا پہلا ری گیسی فکیشن ٹرمینل تعمیر کرنا میری بنیادی ذمہ داریوں میں شامل تھا۔ آئی ایس جی ایس کا یہ مینڈیٹ اور ذمہ داری تھی کہ وہ حکومت پاکستان کی پالیسی کے مطابق کام کرے۔ یہ میرے کام کرنے کا طریقہ نہیں کہ بورڈ آف ڈائریکٹرز یا وزارت پیٹرولیم اینڈ نیچرل ریسورسز کی کمپنیوں کی انتظامیہ میں مداخلت کروں یا ان سے رابطہ کروں؛ یہ کمپنیاں اپنے مینڈیٹ کے مطابق اور سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے قواعد و ضوابط کے مطابق کام کرتی ہیں۔ سوال: آزاد ارکان (شہزاد علی خان اور زبیر موتی والا) کو آئی ایس جی ایس کے بورڈ سے کیوں ہٹایا گیا؟ جواب: مسٹر شہزاد علی خان اور مسٹر زبیر موتی والا آئی ایس جی ایس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں آزاد ڈائریکٹرز تھے جو اپنے عہدوں پر تین سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد اگست 2016ء میں بورڈ سے ریٹائر ہو گئے۔ سوال: ایل این جی ٹرمینل ون کی بولی کے موقع پر آئی ایس جی ایس کے بورڈ کے آزاد ارکان کا تقرر کیوں نہیں کیا گیا؟ جواب: پبلک سیکٹر کمپنیز (کارپوریٹ گورننس) رولز 2013ء کے مطابق آزاد ڈائریکٹرز کو ایل این جی ٹرمینل کی بولی کے وقت نہ صرف مقرر کیا گیا تھا بلکہ وہ کام بھی کر رہے تھے۔ سوال: ایس ایس جی سی ایل کی بجائے بولی کا کام آئی ایس جی ایس کو دینا کہیں ایل این جی ٹرمینل کے متعلق عبوری فیصلوں کے معاملے میں ای ای ٹی پی ایل کو رعایت دینے کیلئے تو نہیں کی گئی تھی اور اس دوران آزاد میمبرز کو بھی باہر رکھا گیا اور ایس ایس جی ایس کی تجربہ کار ٹیم کو بھی نظرانداز کیا گیا؟ جواب: بدقسمتی سے جو الزام عائد کیا گیا ہے اس میں حقائق کی نفی کی گئی ہے؛ ایل این جی ٹرمینل کیلئے ٹولنگ فیس کی سروسز شفاف اور دو مراحل پر مشتمل ٹینڈر پراسیس کے ذریعے حاصل کی گئی تھیں اور یہ ممکن نہیں کہ مسابقتی عمل کے دوران کوئی عبوری فیصلہ کیا جائے۔ مسابقتی ٹینڈر پراسیس میں ایوارڈ کا فیصلہ طے شدہ تکنیکی اور مالی شرائط اور معیارات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ آئی ایس جی ایس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے آزاد ممبرز کو اسی وقت مقرر کیا گیا تھا جب ایل این جی ٹرمینل کے ٹینڈر کا کام ہو رہا تھا؛ اور یہ لوگ کام بھی کر رہے تھے۔ جیسا کہ واضح کیا گیا ہے کہ ایس ایس جی سی ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ کیلئے پروکیورنگ ایجنسی تھی جبکہ آئی ایس جی ایس کو پروجیکٹ میں رابطہ کاری کا مینڈیٹ دیا گیا تھا۔ ایس ایس جی سی روزِ اول سے ہی ٹینڈر کے عمل کا حصہ تھی تاوقتیکہ ایل این جی ٹرمینل پروجیکٹ ایوارڈ ہوگیا اور ایس ایس جی سی کی منظوری کے سوا کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا تھا۔ ایل این جی سپلائی چین کی کامیاب تخلیق توانائی بحران کے حل کیلئے خصوصاً پاکستان میں توانائی بحران کیلئے تشویشناک ہے۔ پاکستان میں ہر موثر گیس سے چلنے والے پاور پلانٹ کو قدرتی گیس دستیاب ہے جو غیر موثر اور موحول کی مناسبت سے ناقابل برداشت ایچ ایس ایف او اور ایل ایس ایف او پر انحصار کم کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، 1200 میگاواٹ کے 4 آر ایل این جی پاور پلانٹس کی پاکستان میں تنصیب کی گئی ہے جو 60 فیصد موثریت پر آج دنیا میں سب سے زیادہ موثر ہیں اور ایچ ایس ایف او اور ایل ایس ایف او پر چلنے والے پاور پلانٹس کے مقابلے میں آدھی قیمت میں توانائی پیدا کرتے ہیں۔ یہ پاور پلانٹس آج پاکستان کی توانائی پیداوار کی گنجائش کیلئے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ پاکستان ایچ ایس ایف او اور ایل ایس ایف او درآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا درآمد کنندہ تھا جس کی آج کی درآمد صفر ہے۔ توانائی پیداوار کیلئے فیول کی بچت کا تخمینہ سالانہ 2 ارب ڈالرز سے زائد لگایا گیا ہے۔ انڈسٹری کو گیس کی دستیابی 24/7/265 بیسز پر یقنی بنادی گئی ہے؛ اس کا موازنہ سازگار طور پر 2013 میں 33 فیصد سے کم کی دستیابی سے کیا جاتا ہے۔ اس سے برآمدات اور موثریت اور انڈسٹریز سے وابستہ منافع پر مثبت اثر پڑا ہے جس کا نتیجہ تازہ سرمایے کی صورت سامنے آیا ہے۔ سی این جی کی صنعت 24/7/365 بیسز پر گیس کی دستیابی کے ساتھ تازہ دم ہوگئی ہے؛ شٹ ڈاؤنز اور طویل قطاریں اور 2013 کے سی این جی اسٹیشنز پر طویل قطاروں کا خاتمہ ہوا ہے۔ پاکستان 10 لاکھ ایم ٹی یوریا کا درآمد کنندہ تھا جو اب یوریا کا برآمد کنندہ ہوگیا ہے جبکہ پاکستانی کاشتکاروں کیلئے کم قیمتوں اور بہتر دستیابی کو یقینی بنارہا ہے۔ ایل این جی اور ڈومیسٹک گیس کے درمیان سیزنل گیس سویپس کے ذریعے سردیوں میں گھریلو گیس لوڈشیڈنگ کا خاتمہ قیمتوں میں اضافہ کئے بغیر کردیا گیا ہے۔ اضافی گھریلو صارفین کی لامحدود تعداد کیلئے اب گیس دستیاب ہے۔ ایچ ایس ایف او اور ایل ایس ایف او کا استعمال ختم کرنے، توانائی پیداوار میں زیادہ موثریت، کیپٹو توانائی پیداوار میں کمی اور سی این جی کے زیادہ استعمال سے ماحول پر بہت مثبت اثر پڑا ہے۔ ڈومیسٹک گیس درآمد شدہ گیس کی نسبت ہمیشہ سستی رہے گی خواہ پائپ لائن یا ایل این جی؛ ڈومیسٹک گیس ہمارا اثاثہ ہے جسے ہم دوسروں کو پیسے دے کر اپنے لئے زمین سے نکلواتے ہیں، درآمد شدہ پائپ لائن گیسز یا ایل این جی تھرڈ پارٹی اثاثہ ہے جسے وہ زمین سے نکالتے ہیں اور ہم سے پیسے لینے کیلئے ہمیں دیتے ہیں۔ پاکستان کیلئے بدقسمتی سے گھریلو گیس قلیل مقدار میں ہے، ہماری نئی دریافتیں موجودہ گیس کے میدانوں کے قدرتی گھٹاؤ سے مطابقت نہیں رکھ پارہے۔ تیل و گیس کی تلاش امکانی کام ہے؛ پاکستان میں تیل و گیس کی آن شور پر قابل ذکر تلاش کا امکان کم ہے، آف شور اور شیل آئل اور گیس کا امکان موجود ہے لیکن اس کی اقتصادی نتیجہ خیزی زیر غور ہے۔ پاکستان کیلئے چوائس ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر ڈومیسٹک آئل اور گیس کی دریافت ہونے کا انتظار کرے یا گیس کی درآمد کرے۔ شعور رکھنے والے ممالک انتظار نہیں کرسکتے، وہ توانائی درآمد کرتے ہیں اور اس کا موثر انداز میں استعمال کرتے ہیں؛ پاکستان نے ایل این جی کے ساتھ یہی کیا ہے۔ متبادل قابل تجدید توانائی کا معالہ، زیادہ تر ہوا اور سولر، جو توانائی کے اسٹوریج میں کسی بھی بڑی تکنیکی پیش رفت کو روک رہا ہے، سادہ ہے؛ یہ مالی طور پر اسی وقت مناسب ہے جب آپ کے پاس کوئی بیسڈ لوڈ حل ہو اور قابل تجدید پیداوار کی مجموعی لاگت ترجیحاً سستے ترین توانائی پیداوار رکازی ایندھن (فاسل فیول) کی لاگت سے کم ہو۔ یو ایف جی کو بہتربنانے کا سوال کچھ یہ ہے کہ یہ ایس ایس جی سی اور ایس این جی پی ایل کیلئے مستقل چیلنج ہے؛ یہ معاشرتی چیلنجز اور پاکستان کے امن و امان اور سلامتی کی صورتحال سے منسلک ہے۔ ان ماحولیاتی اصلاحات کی غیرموجودگی میں حقیقی یو ایف جی کی اصلاحات بہت ہی کم ہوں گی۔ آر ایل این جی کا بڑھتا ہوا استعمال، جیسا کہ آر ایل این جی استعمال کرنے والے ٹرانسمیشن لائنز پر سب سے زیادہ صارفین ہیں اور گیس فراہمی کی مکمل لاگت ادا کرتے ہیں، سسٹم میں قدرتی گیس کی فیصد اور حجم کے طور پر کم یو ایف جی اعداد ظاہر کریں گے؛ تاہم یو ایف جی لاسز کی حقیقت تبدیل نہیں ہوگی اور قابل ذکر سطحوں تک یو ایف جی کم کرنے کیلئے ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ میں بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت پڑے گی۔




https://jang.com.pk/news/661210-shah...at-the-experts