'وہ آوازیں مضبوط ہیں جنھیں بند کرنے کی کوشش جاری ہے


مریم نواز کے خلاف جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے معاملے پر نیب کی درخواست احتساب عدالت نے خارج کر دی


اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور پاکستان مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز کے خلاف نیب کی درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔


احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے جمعے کے روز مریم نواز کے خلاف جعلی دستاویز (ٹرسٹ ڈیڈ) جمع کروانے کے خلاف نیب کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔


جمعے کو احتساب عدالت میں جب اس درخواست پر سماعت ہوئی تو مریم نواز بھی عدالت میں موجود تھیں۔


نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 31 کے تحت اگر عدالتی فیصلے پر کسی کو اعتراض ہو تو 30 روز کے اندر درخواست متعلقہ عدالت میں جمع کروائی جا سکتی ہے۔


اُنھوں نے کہا کہ یہاں پر معاملہ ہی کچھ اور ہے اور فیصلہ آنے کے ایک سال بعد نیب کو یہ درخواست دائر کرنے کا خیال آیا۔


نامہ نگار کے مطابق جج محمد بشیر نے ریمارکس دیے کہ جعلی دستاویزات کا معاملہ تو فردِ جرم عائد کرتے وقت نمٹا دیا گیا تھا تو پھر نیب نے اس حوالے سے درخواست کیوں دائر کی۔


مریم نواز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ایون فیلڈ کے بارے میں عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہے اور جب تک اسلام آباد ہائی کورٹ اس سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کرتی احتساب عدالت کو نیب کی اس درخواست کو سننے کا اختیار نہیں ہے۔


نیب کے پراسیکوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے پاس یہ اختیار ہے کہ اگر کسی جرم میں سزا نہیں دی گئی تو اس معاملے کو دوبارہ دیکھا جاسکتا ہے۔


احتساب عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا اور پھر کچھ دیر کے بعد مختصر فیصلہ سناتے ہوئے نیب کی طرف سے دائر کی گئی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیکر مسترد کر دیا۔


فیصلے کے بعد ٹوئٹر پر اپنے ردعمل میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’ہڑبڑاہٹ میں جج اور نیب اپنا ہی تماشہ بنا بیٹھے۔‘


ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جیسے جج ارشد ملک کو میری پریس کانفرنس کے بعد اچانک یاد آیا کہ انھیں رشوت کی پیشکش کی گئی اور بلیک میل کیا گیا، اسی طرح نیب کی یادداشت ایک سال بعد لوٹ آئی اور اس کو یاد آیا کہ مجھے مزید سزا ملنی چاہیے۔‘


احتساب عدالت میں مریم نواز کی پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور صرف مقدمے سے متعلقہ افراد کو ہی احتساب عدالت میں داخلے کی اجازت تھی۔


مریم نواز کی پیشی سے قبل پولیس نے عدالت کے باہر موجود چھ خواتین کارکنوں سمیت متعدد افراد کو حراست میں بھی لیا۔ انتظامیہ کا موقف تھا کہ جلسے جلوسوں اور ریلیوں پر پابندی لگی ہوئی ہے اور قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔


عدالتی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ جس طرح موجودہ حکمراں جماعت حکومت کر رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے عوام ہی اس حکومت کو گرا دیں گے۔


اُنھوں نے کہا کہ حکومت سیاسی جماعتوں اور میڈیا کی آوازوں کو سینسر شپ کے ذریعے دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’وہ آوازیں بہت مضبوط ہیں جنھیں بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘


ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ حکومت کے خلاف احتجاج کا فیصلہ آل پارٹیز کانفرنس میں کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو سینسر شپ کی آڑ میں نشانہ بنانے والی حکومت کمزور ہے۔


اُنھوں نے کہا کہ ان کی جماعت موجودہ حکومت کو پانچ سال دینے کو تیار ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام ایسا نہیں ہونے دیں گے۔


اُنھوں نے کہا کہ عوام سڑکوں پر نکلنے کے لیے پاکستان مسلم لیگ نواز کا انتظار نہیں کر رہے بلکہ وہ خود ہی سڑکوں پر ہیں۔


پاکستان مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز جب احتساب عدالت پیشی کے لیے لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوئیں تو انھوں نے نواز شریف کی تصویر سے مزین کالا لباس زیبِ تن کیا ہوا تھا جس پر 'نواز شریف کو رہا کرو' کا نعرہ درج تھا۔


ان کا کہنا تھا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو دکھائی گئی اور اگر یہ ویڈیو جعلی تھی تو پھر جج کو کیوں نکالا۔


مریم نواز کے مطابق اُنھوں نے جج ارشد ملک کے خلاف ایک مناسب ثبوت دکھا دیا لیکن اس کے بعد احتساب عدالت کے جج کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی بجائے انھیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔


اُنھوں نے کہا کہ اگر جج کو متنازعہ ہونے پر اُن کے عہدے سے ہٹایا گیا تو ان کے دیے گئے فیصلے کیسے غیر جانبدار ہوسکتے ہیں۔


مریم نواز نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے اور عدلیہ کی غیرجانبداری پر لگے ہوئے اس داغ کو مٹانے کی کوشش کرے۔


اس سے قبل نیب کی جانب سے داخل کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی طرف سے عدالت کے روبرو جعلی ٹرسٹ ڈیڈ جمع کروائی تھی جس پر کارروائی ہونا ابھی باقی ہے۔


نو جولائی کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نیب کی درخواست پر مریم نواز کو 19 جولائی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔


قومی احتساب بیورو کی طرف سے اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں نیب کے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ 'مریم نواز نے ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پیش کر کے عدالت کو گمراہ کیا تھا لہٰذا عدالت اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مریم نواز کو اس جرم میں بھی سزا سنائے۔'


پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اگرچہ عدالت نے اس کیس میں تین ملزمان کو سزا سنائی تھی لیکن جعلی دستاویز جمع کروانے پر عدالت نے علیحدہ سے مریم نواز کو سزا نہیں سنائی تھی۔


یاد رہے کہ عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں جرم ثابت ہونے پر تین افراد کو سزا سنائی تھی جن میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر شامل ہیں۔


ایون فیلڈ ریفرنس میں اس کے علاوہ میاں نواز شریف کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دینے کے لیے کارروائی کا آغاز کرنے کا حکم بھی دیا گیا تھا۔


عدالت کی جانب سے اس کیس میں طلبی کے بعد مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ 'پریس کانفرنس میں تمام سازشیں بے نقاب ہونے کے بعد گھبراہٹ میں حکومت نے میرے خلاف ایک اور مقدمہ قائم کردیا ہے۔‘


ان کا مزید کہنا تھا کہ 'بلانا ہے تو اپنے رسک پر بلانا! میری باتیں نا سن سکو گے نہ سہہ سکو گے! یہ نہ ہو کہ پھر سر پیٹتے رہ جاؤ!۔'


واضح رہے کہ سنہ 2018 میں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں میاں نواز شریف کو دس سال، مریم نواز کو سات سال جبکہ کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔


تاہم بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان سزاؤں کو معطل کر کے تینوں مجرموں کی ضمانت منظور کرلی تھی۔


نیب کے حکام نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا تاہم عدالت عظمیٰ نے نیب کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا۔


https://www.bbc.com/urdu/pakistan-49041794