عاصمہ شیرازی کا کالم: تبدیلی کی ہوائیں آندھیوں کی زد پر


اب کی بار حالات ذرا مختلف ہیں، کھیل سجانے والے کھیلنا چاہتے ہیں مگر کھلاڑی کھیل سنبھال نہیں پا رہے۔ پہلی بار بساط بھی اپنی اور کھلاڑی بھی، بادشاہ بھی اپنا اور پیادے بھی؟


عجب مشکل ہے کہ تبدیلی لانے والے نظریں چرا رہے ہیں اور تالیاں بجانے والے ہاتھ مل رہے ہیں، ہارنے والے اپنی شکستگی چھپا رہے ہیں۔ خاکم بدہن بار شکست کن کندھوں پر آئے گا، یہ سوچنا بھی محال ہے۔


کورونا کے دنوں میں جب عالمی وبا کے علاوہ کچھ سجھائی نہیں دے رہا، جب دائیں کورونا، بائیں کورونا، آگے کورونا، پیچھے کورونا، خوابوں میں خیالوں میں کورونا، ہر طرف کورونا ہی کورونا ہے تو ایسے میں وطن عزیز میں چینی آٹے بحران کی رپورٹ ’تازہ ہوا کا جھونکا‘ بن کر آئی ہے۔


گھروں میں مقید، ٹی وی سکرینوں اور سوشل میڈیا کے گرد جمع عوام نے جیسے سکھ کا سانس لیا ہے۔۔۔ یہ سوچتے ہوئے کہ کورونا کے بعد دنیا بھلے بدل گئی ہے لیکن وطن عزیز میں سیاست ابھی بھی زندہ ہے۔
وہی پرانے الزام، وہی مافیاز کے سکینڈل، وہی پرانے نعرے، چوروں ڈاکوؤں کو نہیں چھوڑوں گا کے دعوے، اور پھر ماند پڑتے ٹاک شوز کی رونقیں بحال۔۔۔ سب لوٹ آیا جو فروری کے وسط سے تقریبا غائب ہو گیا تھا۔ لوگ مطمئن کہ کورونا ہمارا ہرگز کچھ بگاڑ نہ سکا۔ نئے کورونا کے دنوں میں سب پرانی سیاسی باتیں لوٹ آئی ہیں۔


جہانگیر ترین صاحب بھی پرانے ہیں اور یہ چینی کا سکینڈل بھی نیا نہیں، نئے تو عمران خان صاحب بھی نہیں۔ بطور وزیراعظم نہ سہی ایک رہنما کے طور پر انھیں تو معلوم تھا ہی کہ جہانگیر ترین کتنے میٹھے ہیں اور خسرو بختیار کس قدر رسیلے۔۔۔


مگر تبدیلی کی راہ میں جو ہے، جہاں ہے کی بنیاد پر جس قدر فائدہ دے سکے اُسی قدر بہتی گنگا سے ہاتھ دھو لینے کا فارمولا کار آمد بھی ہے اور دیر پا بھی۔


اس بات کی تفصیل میں کیا جانا کہ کب کب کس کس طرح، کہاں کہاں سے جہاز میں لائے گئے لوگوں کے گلے میں سبزوسرخ پرچم ڈال کر تحریک انصاف میں انصاف کا رنگ ڈالا گیا۔


جہانگیر ترین کے چمکتے چہرے پر کامیابی کی داستانیں تحریک انصاف کی صورت آج بھی موجود ہیں۔ البتہ سرائیکی بیلٹ سے وابستہ سیاست دانوں کے ساتھ پہلی بار وہ ہوا ہے جو اس سے پہلے وہ دوسروں کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔


سوال یہ ہے کہ عین کورونا کے دنوں میں جب متاثرین کی تعداد گھنٹوں میں دگنی ہو رہی ہے، یہ رپورٹ میڈیا میں کس نے اور کیوں دی؟


سوال یہ بھی ہے کہ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد مذکورہ وزرا کو چارج شیٹ کرنے کی بجائے انھیں نئی وزارتیں کیوں دے دی گئیں؟


سوال یہ ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی نے اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ سے منظوری کے اسباب اور ذمہ داروں کا تعین کیوں نہ کیا؟


سوال یہ ہے کہ پنجاب کی مجوزہ سفارش پر اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلے اور وزیراعلی پنجاب کا نام رپورٹ میں موجود کیوں نہیں؟


سوال یہ ہے کہ جب کابینہ مشترکہ فیصلوں کا بوجھ اٹھاتی ہے تو بطور وزیراعظم عمران خان صاحب کا کردار کیا ہے؟ کیا وزیراعظم چینی کی برآمد سے بے خبر تھے یا اس فیصلے میں شریک؟۔۔۔ دونوں صورتوں میں کیا وزیراعظم بری ذمہ ہو سکتے ہیں؟


سوال یہ ہے کہ اب کی بار کیا نیب حرکت کرے گا اور ہواؤں کا رخ بدلے گا یا نہیں؟


تبدیلی کے ہوا کے رخ کا تعین کرنے والے اب خود آندھیوں کی زد پر ہیں جبھی نہ جائے رفتن نہ پائے رفتن۔ سر دست نئی تبدیلی کے لیے اپوزیشن کی قطاروں سے نیا گھوڑا دستیاب نہیں یا حکومتی حلقوں میں نئے مہرے کی تلاش جاری ہے؟


بات مفادات کی ہے اور مفادات بالاتر ہوں تو چینی سے میٹھی اور جہازوں سے اوپر دوستی بھی وقت آنے پر ختم ہو سکتی ہے۔ اب چینی سکینڈل کے تناظر میں نوشتہ دیوار پڑھ لیجیے۔۔۔




https://www.bbc.com/urdu/pakistan-52194057