مرہم وقت نہ اعجاز مسیحائی ہے
زندگی روز نئے زخم کی گہرائی ہے

پھر مرے گھر کی فضاؤں میں ہوا سناٹا
پھر در و بام سے اندیشۂ گویائی ہے

تجھ سے بچھڑوں تو کوئی پھول نہ مہکے مجھ میں
دیکھ کیا کرب ہے کیا ذات کی سچائی ہے

تیرا منشا ترے لہجے کی دھنک میں دیکھا
تری آواز بھی شاید تری انگڑائی ہے

کچھ عجب گردش پرکار سفر رکھتا ہوں
دو قدم مجھ سے بھی آگے مری رسوائی ہے

کچھ تو یہ ہے کہ مری راہ جدا ہے تجھ سے
اور کچھ قرض بھی مجھ پر تری تنہائی ہے

کس لیے مجھ سے گریزاں ہے مرے سامنے تو
کیا تری راہ میں حائل مری بینائی ہے

وہ ستارے جو چمکتے ہیں ترے آنگن میں
ان ستاروں سے تو اپنی بھی شناسائی ہے

جس کو اک عمر غزل سے کیا منسوب نصیرؔ
اس کو پرکھا تو کھلا قافیہ پیمائی ہے
نصیر ترابی