جنھیں نگاہ اٹھانے میں بھی زمانے لگے
وہ جا بجا میری تصویر کیوں سجانے لگے

فریفتہ ہوں میں اس پر تو وہ بھی مجھ پر ہے
کہ اپنے خواب میں اکثر مجھے بلانے لگے

یہ دل عجیب ہے غم کی اٹھا کے دیواریں
ترے خیال کے آتے ہی ان کو ڈھانے لگے

تُو اپنی عمر کی محرومیاں مجھے دے دے
میں چاہتی ہوں تری روح مسکرانے لگے

یہ کیسا ہجر ہے جس پر گمان وصل کا ہے
تُو مرے پاس رہے جب بھی اٹھ کے جانے لگے

خدا کرے کہ کہیں تجھ کو تیری فطرت سا
کوئی ملے کبھی پھر میری یاد آنے لگے

ہوا ہے طے وہ سفر ایک جست میں مجھ سے
کہ جس پہ پاؤں بھی دھرتے تجھے زمانے لگے
٭٭٭

یاسمین حبیب