لوگ کیسے نہ کہیں تجھ کو مسیحا اپنا۔۔۔۔۔ تحریر : نجف زہرا تقوی


مشکل کے اس وقت میں ڈاکٹرز کے ساتھ ہماری نرسز کی خدمات بھی لائقِ تحسین ہیں

تحریر : نجف زہرا تقوی

پوری دنیا میں اس وقت جاری صحت کی جنگ جیتنے میں یوں تو ہر فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا اپنا کردار ادا کرے،بیشتر افراد معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کر کے نہ صرف خود بلکہ دوسروں کی زندگیاں بھی بچا رہے ہیں،جبکہ کئی لوگ ابھی تک صورتحال کو سنجیدہ نہیں لے رہے۔

ہر انسان کے لیے اولین ترجیح اس کی اپنی صحت اور زندگی ہے،جبکہ ہمارے بیچ ہی موجود ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس مشکل وقت میں دوسروں کی زندگیاں بچانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ انسانیت کی خدمت کرنے والا یہ گروہ ڈاکٹروں اور نرسز کا ہے۔بلاشبہ ہمارے ڈاکٹرز اپنا آرام و سکون بھول کر جس طرح انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں وہ لائقِ تحسین ہے اور ڈاکٹرز خدمات کو ہمیشہ سے ہی سراہا جاتا رہا ہے،لیکن ان کے برابر بلکہ ڈاکٹرز سے زیادہ مشکل کام کرنے والی نر سز کا ذکر کرنا ہم اکثر بھول جاتے ہیں۔ایسے میںآج کے ہمارے مضمون کا مقصد نرسز کی خدمات کو سراہنا اور انہیں خراج تحسین پیش کرنا ہے۔اس حوالے سے '' ایم اے خالد ‘‘ کی تحریر کے چند نکات کاذکر کرنا ضروری ہے
مریضوں کی تیمار داری کا شعبہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا اس زمین پر انسان کا وجود۔ آج کی دنیا میں ڈاکٹر، نرس اور اسپتال کے بغیر کسی مہذب معاشرے کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ علاج معالجے کی سہولتیں کتنی ہی بہتر کیوں نہ ہوں، علاج کرنے والے اپنے شعبے کے کتنے ہی ماہر کیوں نہ ہوں، جب تک اس پورے نظام کو تربیت یافتہ نرس کی سہولت حاصل نہ ہو، علاج معالجے کا نظام کامیابی کے ساتھ نہیں چلایا جاسکتا۔
نرسنگ ایک محترم پیشہ ہے۔ بیمارانسانوںاور تکلیف میں مبتلا لوگوں کے لیے سفید لباس میں ملبوس نرس ایک ایسے فرشتے کی مانند ہے جو گفتگو کی نرمی،دستِ مسیحائی اور اپنی پیشہ وارانہ مہارت کے ذریعے مریض کی دل جوئی کرتی ہے، اس میں بیماری سے مقابلے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے اور یہ یقین و اعتماد زندہ کرتی ہے کہ مرض کتنا ہی خطرناک کیوں نہ ہو، وہ ایک دن شفایاب ہو کر اپنے گھر کو لوٹے گا اور زندگی اس کے لیے ایک بار پھر حسین، دلچسپ اور مہربان بن جائے گی۔
پاکستان میں نرسنگ کے شعبے کی بنیاد بیگم رعنا لیاقت علی خان نے رکھی،بعدازاں 1949ء میں سنٹرل نرسنگ ایسویسی ایشن اور 1951ء میں پاکستان نرسنگ ایسویسی ایشن کی بنیاد رکھی گئی اس کے بعد 1952ء پھر 1973ء میں بہترین قانون سازی کی گئی اور پاکستان نرسنگ کونسل کا ادارہ وجود میں آیا جسے نرسنگ کے شعبے کی ترویج کا ٹاسک دیا گیا اِس کونسل کے قوانین کے مطابق چاروں صوبوں میں نرسنگ ایجوکیشن دی جار ہی ہے اور نرسنگ اداروں کو چلا یا جا رہا ہے۔جبکہ اس وقت پاکستان کے چاروں صوبوں میں نرسنگ کے تقریباً 200کے قریب چھوٹے بڑے ادارے کام کررہے ہیں۔پاکستان میں آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی نے سب سے پہلے نرسز کو ایک باعزت شناخت دی اور تیمارداری کی عملی تربیت کے ساتھ ساتھ نرسز کو عالمی معیار کی ایجوکیشن بھی مہیا کی ۔
مہذب معاشروں میں نرسنگ کے شعبے کو اہمیت اور نرسوں کو وقارحاصل ہے، اور ان کو حقوق بھی دئیے گئے ہیں، مگر بدقسمتی سے ترقی پذیر ملکوں میں جس طرح کسی بھی شعبے میں عورت کا استحصال کیا جاتا ہے اور اسے کئی مسائل کا سامنا ہے، اسی طرح ہمارے ملک میں بھی نرسیں غلط روئیے اور نامناسب سلوک کی وجہ سے تکالیف اور مسائل سے دوچار ہیں۔ پاکستان سمیت بیشتر ترقی پذیر ممالک میں نرسوں کی کمی ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اسے عام لوگوں کی نظروں میں قابل احترام پیشہ نہیں رہنے دیا گیا۔
نرسوں کی تعریف عالمی ادارے کے تحت یوں کی جاتی ہے کہ یہ بیماروں کی دیکھ بھال کرنے کے علاوہ ایسا ماحول بناتی ہیں جو مریض کی صحت یابی میں معاون ہو، نرسیں بیماری کا پھیلائو روکنے اور لوگوں کو صحت یابی کی طرف لے جانے کی کوشش کرتی ہیں۔ انسانیت کی خدمت ان کا بنیادی کام ہے اور ان کی خدمات قومیت، رنگ و نسل اور کسی بھی سماجی حیثیت و مرتبے اور تعصب سے بالاتر ہیں۔ ہمیں اس پیشے کی قدر اور اس سے وابستہ خواتین کو عزت اور احترام دینا ہو گا۔
نرسیں شب و روز خدمت کے جذبے سے سرشار معالجین کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں۔ معالج ادویات کی تشخیص کر کے چلا جاتا ہے مگر نرسیں مریضوں کو ڈرپ لگانے اور دیگر ٹیسٹس کیلئے24گھنٹے متحرک رہتی ہیں۔ نرس سے ذرا سی غفلت ہو جائے تو عتاب کانشانہ بھی وہی بنتی ہے، حالانکہ اس کے بغیر 24گھنٹے خدمت کا تصور ہی محال ہے۔ جسمانی و ذہنی مریضوں کی بڑھتی تعداد کی وجہ سے نرسوں کی ذمہ داریاں دوہری ہو گئی ہیں۔ ایک طرف وہ بلا رنگ و نسل مریضوں کی خدمت کے لئے ہمہ وقت حاضر رہتی ہیں، دوسری جانب انہیں مریضوں کے اعصابی رویوں کا شکار بھی ہونا پڑتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں اوسطاً 40 مریضوں پر1 نرس تعینات ہوتی ہے۔ پاکستان میں میڈیکل تعلیم کے ساتھ نرسنگ کی تعلیم میں بھی کئی دشواریاں ہیں جبکہ ملک کے نرسنگ سکول، کالج اور یونیورسٹیاں ڈپلومہ کورس سے لے کر ایم ایس سی تک تعلیم و تدریس کی سہولتیں مہیا کر رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے اندر گورنمنٹ نرسنگ سکولز میں نئے داخلوں کا مسئلہ ہے۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان کو1 لاکھ نرسز کی کمی کا سامنا ہے مگر تا حال اس کمی کو دور کرنے کے لیے کسی قسم کے عملی اقدامات نہیںکئے جا سکے۔ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل قریب میں اس مسئلے کو بھی حل کر لیا جائے گا۔5 سال قبل ہسپتالوں کو اپ گریڈ کرکے میڈیکل ٹیچینگ انسٹیٹیوٹ کے نام تو دئیے گئے لیکن افسوس کہ ابھی تک ان ہسپتالوں میں پروفیشنل ایجوکیشن سسٹم متعارف کروانے میں انہیں ناکامی کا سامنا ہے۔ جب سمسٹر کے حساب سے ٹریننگ نہیں دی جائے گی تو مریضوں کو جدید علاج اور نرسنگ کئیر کیسے ملے گی؟
پاکستان میں نرسنگ کی تعلیم اور کیریئر کے حوالے سے عام طور پر زیادہ شعور نہیں ہے۔ کیریئر کے حوالے سے نرسنگ سروس سٹرکچر یعنی جے پی ایم سی ملاحظہ کریں تو آپ کوچیف نرسنگ سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی سی این ایس، نرسنگ سپرنٹنڈنٹ، اسسٹنٹ ایس این، نرسنگ انسٹرکٹر، ہیڈ نرس اور سٹاف نرس/ انچارج نرس کی آسامیاں نظر آئیں گی۔ نرسنگ مینجمنٹ سٹرکچر دیکھیں تو یہاں آپ کو انتظامی سطح پر چیف نرسنگ آفیسر، ڈائریکٹر نرسنگ، نرسنگ منیجر / سپروائزر وغیرہ جیسے عہدے ملیں گے۔ اس لیے پریکٹس میں رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے نرسوں کو اپنی صلاحیتوں کا خود ادراک کرکے راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا اور حقیقی معنوں میں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنا ہوگا۔
کسی بھی معالج کا مددگار ہاتھ نرسیںہی ہیں، وہ ان کیلئے سہولتوں کا سامان پیدا کرتے ہوئے اپنے شب و روز ایک کردیتی ہیں۔ نرس بھی مسیحا ہے، میڈیا کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے عوام الناس کو یہ بتانا ہو گا کہ اگر دیکھ بھال کرنیوالا موجود نہ ہو تو مریض زندگی کی جانب کیسے آئے گا، اس لئے اپنی زندگی کے رکھوالوں کی عزت ہمیں فرض سمجھ کر کرنی چاہیے۔نرسوں کیلئے بھی شارٹ کورسز اور سیمینارز کا اہتمام کیا جائے۔ عوام کو یہ باور کرانا چاہئے کہ نرسنگ ایک باوقار پیشہ ہے لہٰذا نرسوں کی قدراور حوصلہ افزائی کریں۔ ہر طرح کے تعصب کو بالائے طاق رکھ کر احترام انسانیت کو فروغ دینا ہو گا‘ یاد رکھیے باوقار اقوام اپنی عوام کی تعلیم و صحت کا خاص خیال رکھتی ہیںاور دنیا میں وہی معاشرے عزت پاتے ہیں جو خود اپنی عزت کروانا جانتے ہیں۔