مسافر خانہ ۔۔۔۔۔ تحریر : حمیرا عبد الرشید غازی

بادشاہ کا دربار سجا تھا۔ وزیر و مشیر جمع تھے۔ محل میں بہت آدمی تھے پہرے دار، چوکیدار مستعد کھڑے تھے۔ دربارِ عام منعقد ہو رہا تھا اس لیے ہر کسی کو آنے کی اجازت تھی۔ مگر یہ بھی نہیں کہ منہ اٹھائے جو جہاں چاہے چلا جائے۔ ہر ایک اپنے مرتبے کے مطابق قطار بنائے کھڑا تھا۔ حاجب، مصاحبین اور وزراء بادشاہ کے قریب تھے۔ لوگوں سے عرضیاں لے کر بادشاہ کو پیش کرتے تھے۔ فیصلے صادر ہوتے تو اہلِ غرض کو بتا دیتے۔ اتنے میں ایک شخص دربار میں داخل ہوا۔ حلیے سے ایسا کہ اسے دیکھ کر بندہ رعب زدہ ہو۔ وہ دربار میں آیا تو سیدھا بڑھتا چلا گیا اور تخت شاہی تک جا پہنچا۔ دربار کے منتظمین ہر طرف پھیلے ہوئے تھے، لیکن بادشاہ تک پہنچنے سے کوئی اسے روک نہ سکا۔ وہ تخت شاہی تک پہنچا تو خاموش کھڑا ہوگیا۔ کوئی ادب بجا نہ لایا۔ سب کی نظریں نو وارد کی طرف اٹھی ہوئی تھیں۔ دربار میں خاموشی طاری ہو گئی سب سننا چاہتے تھے کہ یہ شخص کیا کہے گا۔
بادشاہ نے خود ہی اس سے سوال کیا کہ کیا کام ہے؟ جواب ملا ٹھکانے کی تلاش ہے۔ پوچھا گیا کیا مطلب ہے؟جواب ملا مطلب صاف ہے مجھے رہنے کے لیے جگہ چاہیے۔ پوچھا گیا کہاں؟ بولا اس مسافر خانے میں۔ سوال کیا گیا کس مسافر خانے میں؟ جواب ملا اس مسافر خانے میں جہاں کھڑا ہوں۔ یعنی اس محل میں جہاں میں اس وقت موجود ہوں۔ بادشاہ کو اس کی بات بری معلوم ہوئی۔ چنانچہ اس نے ڈانٹ کر کہا کیا بکتے ہو؟ یہ شاہی محل ہے مسافر خانہ نہیں۔ جواب ملا شاہی محل ہے تو کیا ہوا؟ یہ بتائو کہ تم سے پہلے یہاں کون رہتا تھا؟ مدتوں سے شاہی خاندان یہاں رہتا چلا آیا تھا۔ چنانچہ بادشاہ نے اجنبی کے سوال کے جواب میں کہا کہ مجھ سے پہلے میرے والدِ معظم یہاں رہتے تھے۔ سوال ہوا ان سے پہلے؟جواب ملا ان کے والد محترم۔ ان سے پہلے؟ جواب ملا میرے خاندان کے اور بزرگ۔ نو وارد نے بڑے اطمینان سے کہا جس جگہ اتنے آدمی آتے جاتے رہے ہوں وہ مسافر خانہ نہیں تو اور کیا ہے؟ اس کی یہ بات سن کر بادشاہ خاموش ہوگیا۔ درباری سکتے میں آگئے۔ وہ اللہ کا بندہ جدھر سے آیا تھا ادھر کو نکل گیا۔ بادشاہ بہت سمجھ دار تھا، اس نے سمجھ لیا کہ یہ اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوئی ہے۔ چنانچہ اسے بات سمجھ آگئی کہ یہ دنیا مسافر خانہ ہے۔ چند روزہ زندگی عیش و عشرت، لوٹ کھسوٹ، جبر و تشدد میں گزری تو خدا کو کیا منہ دکھائوں گا؟ چنانچہ بادشاہ نے تخت و تاج چھوڑ دیا۔ یہ ابراہیم ادہم کا واقعہ ہے، وہ بہت بڑے عارف تھے۔ ان کا مرتبہ بہت بڑا تھا اس لیے انہوں نے بڑی قربانی دی۔
اس واقعے میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا کو پرکھیں۔ یہاں قدم قدم پر جھوٹ ہے، ظلم، تعصب، کینہ، لوٹ مار ہے۔ ان سب کی زد سے خود کو محفوظ رکھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے بتائے ہوئے طریقے پر چلتے رہیں۔ ہمارا دین بغیر دنیا کے مکمل ہوتا ہے اور نہ دنیا بغیر دین کے مکمل ہوتی ہے۔ اس لیے مومن یک رخ نہیں ہوتا، یہ مناسب اور متوازن طریقے پر زندگی گزارتا ہے۔ ہر وقت موت کا تصور سامنے رکھتا ہے۔ اگر ہمارے دل میں آخرت کا خیال نہیں ہوگا تو ہمارا دل کبھی غنی نہیں ہوگا۔ دنیا ہمیں کبھی حقیر دکھائی نہیں دے گی۔ جو دنیا کمانے نکلتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے دنیا دے دیتا ہے لیکن آخرت میں اس کا حصہ نہیں رکھتا۔ یاد رہے زندگی ایک مسلسل سفر ہے یہ سفر کسی وقت بھی ختم ہو سکتا ہے۔ لہٰذا اس دنیا میں مسافر کی طرح زندگی بسر کریں تو کامیاب رہیں گے۔