مملکت سے محبت ..... تحریر : احمد حسن

قائد اعظمؒ کا مقصد صرف خشکی کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا نہیں تھا بلکہ وہ ایسی مثالی مملکت کے خواہاں تھے جہاں مسلمان سکھ چین سے آزادانہ زندگی بسر کر سکیں۔جہاں ایک عادلانہ اور منصفانہ معاشی اور معاشرتی نظام قائم ہو جہاں سب کیلئے آگے بڑھنے کے مواقع یکساں ہوں جہاں امیر اور غریب میں فرق نہ روا رکھا جائے سب کیلئے قوانین کی لاٹھی یکساں استعمال ہو جمہوری نظام کے زیرسایہ سیاسی جماعتیں بھی آگے آکر اپنا منشور پیش کرسکیں اور تعمیری انداز میں رائے عامہ کو اپنے حق میں منظم کر سکیں۔1941 کو قائداعظمؒ نے ایک تقریر میں فرمایا'' اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز ہمیشہ ہمارے سامنے رہنا چاہیے کہ اسلام میں اصلاََنہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے نہ پارلیمنٹ کی اور نہ کسی اور شخص یا ادارے کی، قرآن مجید کے احکامات ہی سیاست اور معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدیں قائم کرتے ہیں اسلامی حکومت اور دوسرے لفظوں میں قرآنی اصول اور احکام کی حکمرانی کیلئے آپکو علاقے اور مملکت کی ضرورت ہے ‘‘ 1943 میں کراچی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ'' وہ کونسا رشتہ ہے جس میں بندھ جانے سے تمام مسلمان ایک واحد جسم کی طرح ہیں وہ کونسی چٹان ہے جس پر انکی ملت کی عمارت قائم ہے وہ بندھن وہ رشتہ خدا کی عظیم کتاب ہے مجھے یقین ہے ہم جوں جوں آگے بڑھتے جائیں گے ہم میں زیادہ وحدت پیدا ہوتی جائے گی ایک خدا، ایک رسولؐ، ایک کتاب اور ایک امت‘‘ یہ محض ایک نعرہ نہیں تھا جو قائداعظمؒ نے بلند کیا انہیں اس نعرے کے تمام تقاضوں کا علم تھا اور یہ احساس تھا کہ قرآن میں مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل موجود ہے ۔ 1945 میں انہوں نے دوران خطاب کہا '' پاکستان کا مطلب یہ نہیں کہ ہم غیر ملکی حکومت سے آزادی چاہتے ہیں بلکہ اس سے مراد اسلامی نظریہ ہے جس کا تحفظ نہایت ضروری ہے ہمیں اپنی آزادی ہی مطلوب نہیں ہمیں اس قابل بھی بننا ہے کہ اسکی حفاظت کرسکیں اور اسلامی تصورات اور اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکیں‘‘۔ قائداعظمؒصوبائی اور علاقائی تعصبات کے سخت خلاف تھے وہ بلند تر حب الوطنی کے داعی تھے اور فرماتے تھے کہ ''مملکت سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ذاتی، مقامی یا صوبائی مفادات کو سارے ملک کے مفاد کے تابع کرنے کیلئے ہروقت تیار رہیں۔‘‘