بد حواسی چھوڑیں ۔۔۔۔کورونا کو ’’قبول‘‘ کریں .....تحریر : طیبہ بخاری



ہمیں ممکنہ طور پر کورونا کے ساتھ مہینوں یا سالوں تک رہنا ہوگا
ڈاکٹر نہ ہونے کے باوجود کورونا وائرس نے ہر کسی کو اپنے لیے ڈاکٹر بننے پر مجبور کر دیا ہے، ہم میں سے اکثر کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں یا دوست احباب کیلئے جیسا تیسا ''ڈاکٹر ‘‘ بن ہی جائیں ۔ آج کل ایک دوسرے کو کورونا سے بچنے کے طریقے بتانا یا حفاظتی اقدمات کے ٹوٹکے بتانا عام ہے ، سوشل میڈیا بھی ان خدمات میں پیش پیش ہے یہ تحقیق کیے بناء کہ کیا درست ہے اور کیا غلط سب چل رہا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ اندھا دھند چل رہا ہے کہیں لا پرواہی ہے تو کہیں بدحواسی۔اور اس سب کے بیچ میں کورونا ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا پھیلتا ہی جا رہا ہے۔ ذرا ملاحظہ کریں کہ یونیورسٹی آف میری لینڈ سے ہیڈ آف انفیکشیس ڈیزیز کلینک کیا لکھتے ہیں ''ہمیں ممکنہ طور پر کورونا کے ساتھ مہینوں یا سالوں تک رہنا ہی ہوگا اس لیے آئیں اور اس کو قبول کریں لیکن گھبرانے کی بات بھی نہیں ہے صرف اس حقیقت کو مان کر زندگی گذارنا سیکھنا ہے۔ جب کورونا وائرس آپ کے خلیوں میں داخل ہو جاتا ہے تو بالٹیاں بھر بھر کر گرم پانی پینے سے بھی کچھ نہیں ہوگاسوائے اس کے کہ آپ بار بار پیشاب کرنے کو دوڑیں گے۔ ہاتھ دھونا اور کم از کم 2میٹر کا فاصلہ رکھنا ہی بہترین بچاؤ کا طریقہ ہے۔ اگر آپ کے گھر میں کورونا کا مریض نہیں ہے تو گھر کے فرش کو ڈس انفکیٹنٹ سے دھونے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ ڈیلیوری کے باکس، پیٹرول پمپس، شاپنگ کی ٹرالیاں اور اے ٹی ایم سے انفیکشن نہیں ہوتی۔ اپنے ہاتھ دھوئیں اور اپنی زندگی نارمل انداز میں گذاریں۔ کورونا خوراک سے پھیلنے والی بیماری بھی نہیں یہ فلو کے قطروں سے پھیلنے جیسی بیماری ہے۔ ابھی تک ہوم ڈیلیوری کھانا آرڈر کرنے سے کورونا پھیلنے کا کوئی خطرہ ثابت نہیں ہوا۔ آپ کی سونگھنے کی حس کسی بھی الرجی یا وائرل انفکیشن سے متاثر ہو سکتی ہے، یہ صرف کورونا کی علامت نہیں ہے۔ جب آپ گھر پہنچیں تو آپ کو فوری طور پر کپڑے بدلنے یا شاور لینے کی بھی ضرورت نہیں۔ صفائی ایک بہترین چیز ہے، مگر بدحواسی نہیں۔ کورونا وائرس ہوا میں معلق نہیں رہ سکتا یہ سانس سے نکلنے والی رطوبت سے لگنے والی بیماری ہے جس کیلئے مریض کے قریب ہونا ضروری ہے۔ ہوا بالکل صاف ہے آپ باغ یا پارک میں سیر کر سکتے ہیں بس دوسروں سے فاصلہ رکھنے کی احتیاط جاری رکھیں۔ عام صابن کا استعمال کافی ہے اس کے لیے اینٹی بیکٹریل صابن کی ضرورت نہیں۔ کورونا وائرس ہے، بیکٹریا نہیںاپنے ہوم ڈیلیوری کھانے کے متعلق پریشان نہ ہوں۔ زیادہ مسئلہ ہو تو مائیکروویو میں گرم کر لیں۔ اپنے جوتوں کے ساتھ کورونا وائرس کا گھر میں آنے کا چانس اتنا ہی ہے جتنا آسمانی بجلی کے آپ پر گرنے کا، وہ بھی ایک ہی دن میں2 بار۔ میں 20 سال سے وائرس کی بیماریوں پر کام کر رہا ہوں، یہ وائرس اس طرح نہیں پھیلتے۔ آپ سرکے، گنے کے جوس، یا ادرک کے پانی کے استعمال سے وائرس سے نہیں بچ سکتے۔ یہ مشروبات صرف آپ کی امیونٹی(قوت مدافعت ) بڑھاتے ہیں، اور بس۔ مسلسل ماسک کا استعمال آپ کے سانس لینے کے نظام اور جسم میں آکسیجن کی مقدار پر اثر ڈالتا ہے۔ ماسک صرف اس وقت استعمال کریں جب آپ بھیڑ میں ہوں۔ دستانوں کا استعمال اچھا آئیڈیا نہیں ہے۔ الٹا وائرس دستانوں کی سطح پر جمع ہو جاتے ہیں، اور اگر غلطی سے ہاتھ منہ کو لگ جائے تو بیماری پھیلنے کا زیادہ امکان ہو جاتا ہے۔ بہتر ہے کہ صرف ہاتھ دھونے والی احتیاط ہی کو اپنایا جائے۔ آپ کے جسم کا مدافعتی نظام یعنی امیونٹی کمزور ہو جاتی ہے اگر آپ مسلسل ایسے ماحول میں رہیں جہاں آپ کے جسم کو کسی قسم کے وائرس کا خطرہ نہ ہو۔ (امیونٹی تب ہی بڑھتی ہے جب انسانی جسم ہوا سے مختلف جراثیم لیتا رہتا ہے اور اسکا مدافعتی نظام ان جراثیم کو مارتا رہتا ہے) حتیٰ کہ امیونٹی بڑھانے والی دوائیں بھی بے فائدہ رہتی ہیں۔ بہتر ہے کہ آپ باقاعدگی سے باہر جائیں، پارک وغیرہ۔ امیونٹی جراثیم سے لڑنے سے بڑھتی ہے نہ کہ گھر میں بیٹھے رہنے اور جنک فوڈ کے استعمال سے۔‘‘ ہم تو صرف اتنا کہیں گے کہ غور کریں۔۔۔