بیانات کی توپیں ..... تحریر : ملک نذر حسین عاصم

ہمارے ملک میں کافی عرصے سے کرپشن کرپشن کا کھیل کھیلا جا رہا ہے ہر دور میں ایسا ہی ہوا۔نئے یونین کونسل کے چیئرمین نے پرانے چیئرمین کے کچے چٹھے کھول دیئے۔ وزراء ، وزیر اعلیٰ اور دیگر عہدیداران پر انگلی اٹھائی جاتی ہے یہ رسم پرانی ہے اس طرح لوگوں کی حمایت حاصل ہوتی ہے اور لوگ پرانے لوگوں سے بدظن ہونے لگتے ہیں اسی کا نام سیاست ہے کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کل کا طلوع ہونے والا سورج کس کا ساتھ دے گا۔لوگ چڑھتے سورج کے پجاری ہیں جو کل اس پارٹی میں تھے آج مخالف کٹہرے میں کھڑے ہیں بیانات کی توپیں داغی جاتی ہیں ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں عدالتوں اور کمیشنز میں زور آزمائی ہوتی ہے چینلز پر اینکرزکی چرب زبانی اخلاقی حدود پر بمباری کرنے لگتی ہے صرف پاکستان میں ہی نہیں کرپشن کی وباء دنیا کے بہت سے ممالک میں طوفان اٹھائے ہوئے ہے۔ جنوبی افریقہ میں پانچ چھ سال قبل کرپشن اس قدر عروج پر گئی کہ عوام سڑکوں پر نکل آئے اور 2 نومبر 2016 ء کو ہزاروں مظاہرین دارالحکومت پریٹوریا کے باہر 74 سالہ صدر جیکب زوما کی برطرفی کے نعرے لگا رہے تھے۔ عدالتی رپورٹ بھی صدر زوماکیخلاف آئی ان پر 800 کرپشن کے الزامات تھے۔
یو کرائن کو یورپ کا بد عنوان ترین ملک سمجھا جاتا ہے یہاں روز افزوں کرپشن کی روک تھام کیلئے ایک نئے قا نون کے تحت پابند کیا گیا کہ اپنے اثاثوں اور آمدن کا آن لائن اعلان کیا جائے پیٹرو پوروشنکو وہاں کے امیر ترین شخص ہیں وہ روس سمیت مختلف ملکوں میں 100 فرموں کے مالک ہیں۔لیکن آئی ایم ایف نے یوکرائن کو 1 ارب ڈالرز کا قرضہ ایک سال کی تاخیر کے ساتھ دیا وہ بھی نئے قانون سازی سے مشروط کرکے۔
مشرقی ایشیاء ملک جنوبی کوریا ایک ترقی یافتہ ملک ہے وہاں کی خاتون صدر پر بھی کرپشن کے الزامات لگائے گئے تھے ایران کے سابق چیف پراسکیوٹر سعید مرتضوی پر بھی کرپشن اور عوامی سرمایہ ضائع کرنے کے الزامات تھے ۔
اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ نئے نئے گل کھلتے ہیں اور سابقہ حکمرانوں کی کارگزاری سامنے آتی ہے عدالتی فیصلے ہی بتاسکتے ہیں کہ کون کیسا تھا؟ یا کون کیسا ہے؟ لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ حکومتی سربراہ خواہ کسی بھی پارٹی کا ہواسے عوام ووٹوں کی طاقت سے منتخب کرکے ایوان تک پہنچاتی ہے تو کیا ان لوگوں کا کردار ایسا ہی ہونا چاہیے کہ وہ ملکی دولت پر عیاشیاں کریں اور عوام پر بھاری ٹیکس لگاکر ان کی زندگی اجیرن کردیں۔ ہم ایک تربوز خریدنے سے پہلے پوری ریڑھی کی چھان بین کرتے ہیں توپھر اپنے اوپر مسلط ہونیوالے حکمرانوں کے بارے میں غفلت کا مظاہرہ کیوں کرتے ہیں؟ کسی مخصوص پارٹی یا شخص پر تنقید کرنا ہرگز مقصد نہیں قیام پاکستان سے آج تک تمام سربراہان سے سوال ہے کہ جس ملک نے آپکو عزت دی، اقتدار پر بٹھایا کہ عوام کی مفلوک الحالی دور کریں تو بتائیے آج تک غربت کی لکیر تلے رہنے والوں کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ؟ لوگ غربت سے تنگ آکر خودکشیاں کرتے ہیں اور کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ سرکاری ملازمتوں پرمستقل پابندی عائد رہتی ہے۔ پڑھا لکھا طبقہ بے راہ روی کا شکار ہوجاتا ہے، لوگ روٹی چوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، افلاس کے بادل دن بدن گہرے ہوتے جارہے ہیں لیکن ایک مخصوص طبقہ ہر دور میں کرپشن سے باز نہیں آتا۔ انہیں عوامی مفاد سے ذاتی مفاد زیادہ عزیز ہوتا ہے انہیں شاید ہسپتالوں میں سسکتے لوگ نظر نہیں آتے؟