دیر تک جاگنے کے اثرات ...... تحریر : بابر خان


انسانی جسم بائیولوجیکل کلاک پر کام کرتا ہے۔ ہزاروں سال سے انسانی جسم صبح سویرے جاگنے اور رات کو جلدی سونے میں ڈھل چکاہے۔ ایسے میں اس وقت دماغ اور ہارمون زیادہ فعال رہتے ہیں۔
لیٹ نائٹ جاگنے کی وجہ
لیٹ نائٹ جاگنے کی وجہ سے ہمارا نارمل بائیولوجیکل کلاک ڈسٹرب ہوجاتا ہے۔ ہمیں نیند لانے کا موجب ایک ہارمون ہے جسے ''میلاٹونن ہارمون‘‘ کہا جاتا ہے ہمارے جسم کی ڈیفالٹ سیٹنگز میں یہ ہارمون جیسے ہی شام کا دھندلکا شروع ہوتا اور ہلکی ہلکی تاریکی چھاتی ہے تو یہ ہارمون ریلیز ہونا شروع ہو جاتا نتیجتاً اگلے گھنٹے دو گھنٹوں میں ہمیں شدت سے نیند محسوس ہوتی ہے.ہم اپنی نیند کی خواہش کو دباتے رہتے ہیں چاہے وہ ڈرامے کی صورت میں ہو، پڑھائی کی صورت میں، فیس بک ہو یا چیٹ ، نتیجتاً ہم مسلسل پریکٹس کے بعد میلاٹونن کے جلدی ریلیز کو روک دیتے ہیں بالآخر یا تو ہماری نیند غائب ہو جاتی ہے یا پھر دیر سے نیند آتی ہے۔
صبح4بجے کے بعد نیند کیلئے ذمہ دار میلاٹونن گھٹتا ہے۔ایڈرنالن اور دیگر ہارمونز کی مقدار بڑھنے سے یکسوئی، چستی پھرتی اور توانائی زیادہ رہتی ہے۔
اب نیند نہ آنے کی وجہ سے کیا ہوتا سب ہی اس سے بخوبی واقف ہیں۔
سٹریس ہارمون ریلیز ہوتے ہیں، سٹریس ہارمون کی الگ کارستانیاں ہیں جو ہمارا بیڑہ غرق کرتے، مختصراً
۔۱۔ بالوں کا پتلا ہونا، چہرے پر دانے، جسم پر بال آنا، رنگ گہرا پڑجانا، دل کا دھڑکنا،کمزوری اور بہت سی خواتین کی بیماریاں جن میںحیض کی کمی یا زیادتی۔
۔۲۔ وزن کا تیزی سے بڑھنا یا گرنا۔
۔۳۔ بھوک کی زیادتی یا کمی۔
۔۴۔ افسردگی، ڈپریشن۔
شامل ہو سکتی ہیں۔
اب اگر کوئی یہ کہے کہ جی میں لیٹ تو سوتا ہوں لیکن 8 گھنٹے کی پوری نیندلیتا تو مجھے اثر نہیں پڑتا۔ ایسا نہیں ہوتا۔ فرق پڑتا ہے اور بہت زیادہ پڑتا ہے،نیند وہی ہے جو رات کو کی جائے ، میلاٹونن ہارمون رات کے وقت ریلیز ہوتا اور صبح کے وقت اسکا اثر کم ہونا شروع ہوجاتااگر آپ ساری رات جاگ کر صبح کے وقت سوئے تو یہ میلاٹونن کی وجہ سے نہیں بلکہ تھکان کی وجہ سے غنودگی ہوگی اور آپ ڈیپ سلیپ میں نہیں جاسکوگے جسے آپ سوتے جاگتے والی کیفیت کہتے آپ اس کیفیت میں سارا دن رہوگے۔
اس لیے کوشش کریں جلدی کھانا کھائیں اور تمام کام نمٹا کر جلدی بیڈ پہ جائیں اور فجر کے وقت جلدی اٹھیں۔