افلاطون ...... تحریر : اخلاق احمد

جنگ سے تدریس کے میدان تک

جنگ پیلوپونیز کے دوسرے یا تیسرے سال 428/27 قبل مسیح میں ایتھنز میں ایک بچہ پیدا ہوا جو اپنے فلسفہ کی اہمیت کی وجہ سے آج بھی زندہ ہے۔ ایتھنز کے اس عظیم سپوت کو افلاطون (پلیٹو) کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ فلاسفہ مغرب میں اسے سقراط کے بعد اور ارسطو سے پہلے ایک اہم مقام حاصل ہے۔ اس کے باپ کا نام ارسٹن تھا جو یونان کے طبقہ امرا سے تعلق رکھتا تھا۔ اسی طرح اس کی ماں، پرکشنے کا تعلق بھی ایتھنز کے ایک اہم خاندان سے تھا۔ افلاطون ابھی چند سال کا تھا کہ اس کے باپ کا انتقال ہو گیا۔ اس کی ماں نے دوسری شادی کر لی۔
امیرانہ ماحول میں پرورش پانے کے بعد افلاطون جب جوان ہوا تو اپنے چوڑے چکلے شانوں کی وجہ سے عرف عام میں ''افلاطون‘‘ کہلایا۔ اس نے ایام جوانی میں کھیلوں اور جنگ میں نمایاں حصہ لیا۔ اس کی جوانی کا سب سے اہم واقعہ جنگ پیلوپونیز تھا۔ جنگ میں اس نے سپارٹا کے خلاف اس طویل جنگ میں حصہ لیا اور گھڑ سوار فوج میں شاندار خدمات انجام دیں۔
وہ ایتھنز کی سیاست میں عملی حصہ لینے کا خواہاں تھا مگر لگاتار کئی ایسے واقعات پیش آئے جن کی وجہ سے وہ سیاست اور جمہوریت سے متنفر ہو گیا۔ 404 قبل مسیح میں جنگ پیلوپونیز کے اختتام پر جب ''30 قاہروں‘‘ کا ٹولہ برسراقتدار آیا تو اس میں اس کے نزدیکی عزیز چچا اور ماموں بھی شامل تھے۔ عین ممکن تھا کہ افلاطون بھی رجعت پسندوں کے اس ٹولے میں شامل ہو جاتا مگر ان لوگوں کے ظلم اور دہشت نے افلاطون کو اقتدار سے دور رکھا۔ کچھ مدت بعد جب جمہوریت بحال ہوئی تو جمہوریت کے دعویداروں نے ان کے چہرے سے اچھائی کے مصنوعی خول اتارنے کے جرم میں اس کے استاد اور قریبی دوست سقراط کو سزائے موت دے دی۔ اس سانحہ کے نتیجے میں افلاطون کے دل میں جمہوریت کے خلاف نفرت اور حقارت کا ایسا طوفان اٹھا کہ وہ جمہوری حکومت کے خلاف زہر اگلنے لگا۔
سقراط کی موت کے بعد ایتھنز کی جمہوری حکومت اسے شک و شبے کی نظروں سے دیکھنے لگی اور قریب تھا کہ سقراط کی طرح اسے بھی کسی جھوٹے الزام میں گرفتار کر لے کہ اس کے بہی خواہوں نے اسے ایتھنز کو چھوڑنے کا مشورہ دیا۔ افلاطون نے دوستوں کی رائے قبول کرتے ہوئے میگارا کا رخ کیا جہاں وہ کچھ عرصہ اپنے دوست اقلیدس کے ساتھ رہا اور اس نے اپنے مشہور زمانہ مکالمات لکھنے کا آغاز کیا۔ بعض تذکرہ نگاروں کے مطابق اس کے بعد مصر میں شخصی حکومت کی شان و شوکت اور اس کی ثقافتی اور تمدنی زینت و نظر افروزی دیکھ کر بہت زیادہ متاثر ہوا اور ایک مثالی حکومت کے خواب دیکھنے لگا، جس کی تعبیر اس کی تصنیف ''جمہوریہ‘‘ میں ملتی ہے۔ مصر جیسے قدیم تہذیب کے حامل ملک کی سیاحت سے اس کی فکر ونظر میں خاصی وسعت پیدا ہوئی۔
۔338 قبل مسیح میں افلاطون نے شمالی اطالیہ کا سفر کیا جہاں تارنتم کے میئر آرکتیاس سے ملا جو فیثاغورث کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا تھا۔ اسی سفر میں وہ اطالیہ سے سسلی پہنچا جہاں اسے سیرا کیوز کے آمر دیونوسیوس کے دربار تک رسائی حاصل ہوئی۔ وہاں اس کی ملاقات اس کے برادر نسبتی دیون سے ہوئی۔ دیون نے افلاطون کے فلسفیانہ خیالات کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جبکہ خود دیونوسیوس اسے خاطر میں نہ لایا۔ کہتے ہیں افلاطون کی تنقید و اصلاح سے دیونوسیوس اس قدر تنگ آ گیا کہ اس نے اسے سسلی سے نکال کر ایتھنز جانے والے ایک بحری جہاز پر سوار کر دیا۔ اس جہاز پر سپارٹا کا سفیر بھی سوار تھا۔ اس سفیر نے افلاطون کو راستے میں آئی گینا کے جزیرے پر اتار کر غلاموں کی منڈی تک پہنچا دیا۔ وہاں اتفاقاً ایک دوست نے اسے پہچان لیا اور خرید کر آزاد کر دیا۔ تقریباً 12 سال کی سیاحت کے بعد وہ واپس ایتھنز پہنچا۔ بعض مؤرخین کے مطابق اس نے اپنے اس سیاحتی دورے میں ہندوستان میں دریائے گنگا تک کا سفر کیا اور ویدانت کا علم بھی حاصل کیا۔ اپنے اسی مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر اس نے اب ملک کی سیاست سے عملی طور پر دور رہ کر ایتھنز کے شہریوں میں ذہنی انقلاب پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اسی منصوبہ پر عمل کرتے ہوئے اس نے اپنی اکیڈمی کی بنیاد رکھی۔ غالباً یہ دنیا کا پہلا مستقل علمی ادارہ تھا جو تعلیم و تحقیق کے لیے وقف تھا۔ اسے تمام مغربی یونیورسٹیوں کا نقش اول قرار دیا جا سکتا ہے۔ اکیڈمی میں فلسفہ کے علاوہ ریاضی، قانون اور سیاسی نظریات کی تعلیم دی جاتی تھی۔ ایسی ہی ایک تربیت گاہ معروف یونانی خطیب ایسوکراتیس نے بھی قائم کی تھی مگر اس کی اکیڈمی میں صرف فن خطابت کی تعلیم دی جاتی تھی۔ افلاطون کی اکیڈمی ایتھنز کے شمال مغرب میں واقع ایک باغ میں قائم کی گئی جہاں پہلے سقراط اپنے شاگردوں کو درس دیا کرتا تھا۔ یہ ادارہ تقریباً نو سو سال تک قائم رہا، رومی شہنشاہ جسٹنین کے حکم پر تقریباً 529ء میں اس پر قدغن لگا دی گئی۔
افلاطون نے ساری عمر شادی نہیں کی اور اپنی جملہ توانائیاں اکیڈمی کے لیے وقف کر دیں۔ اس کی زندگی کے آخری سال مکمل طور پر تصنیف و تالیف اور پڑھنے پڑھانے میں بسر ہوئے۔ اس کے شاگردوں کی تعداد اتنی وسیع ہو گئی تھی کہ وہ جہاں جاتا لوگ اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے تھے۔ افلاطون نے 80 برس کی عمر میں انتقال کیا۔