تقویٰ اور عمل ۔۔۔۔۔ تحریر : مولانا امین احسن اصلاحی

قرآن مجید کے فہم وتدبر کیلئے ایک نہایت اہم اور ضروری شرط تقویٰ بھی ہے سورہ بقرہ کی پہلی ہی آیات میں فرمایا گیاہے:ترجمہ:’’یہ ایک کتاب الٰہی ہے اس کے کتاب الہٰی ہونے میں کوئی شک نہیں۔ہدایت ہے خدا سے ڈرنے والوں کیلئے ۔‘‘ ( البقرہ 2-)سورہ لقمان میں فرمایا ،ترجمہ:’’یہ پُرحکمت کتاب آیات میں ہدایت و رحمت بن کر نازل ہوئی ہے خوب کاروں کیلئے۔‘‘(سورہ لقمان )

قرآن مجید کے متعلق یہ امر مسلم ہے کہ وہ انسان کے روحانی ارتقاء کا آخری زینہ ہے اﷲتعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت ورہنمائی درجہ بدرجہ فرمائی ہے ۔ہدایت کا پہلا درجہ ہدایت جبلت اورہدایت فطرت ہے جس کا ذکر یوں آیا ہے ، ترجمہ:’’جس نے مقدر کیا اور ہدایت بخشی‘‘ (الاعلیٰ ۔87:3) اور پھر فرمایا ، ترجمہ ’’پس اس کو سمجھ دی اس کی بدی اور نیکی کی‘‘ (الشمس۔ 91:8) مختلف آیات میں فرمایا یہ آنکھ ،کان ،دماغ اور دل کی رہنمائی اور وجدان و ذوق اور ادراک و تعقل کی ہدایت ہے ۔یہ ہدایت ہے،یہ فطرت کی وہ عام بخشش ہے جس میں تمام بنی آدم یکساں شریک ہیں بلکہ اسکے ایک حصہ کا فیضان تو اس قدر عام ہے کہ حیوانات اس سے بہرہ مند ہیں۔یہ اسی ہدایت کا ثمر ہے کہ مرغی کے بچے دانہ چگتے ہیں،بطخ کے بچے انڈے سے نکلتے ہی پانی میں تیرنے لگتے ہیں ،بلی کے بچے ابھی آنکھیں نہیں کھولتے لیکن جانتے ہیں کہ انکی غذا کا سرچشمہ اور پرورش کا سامان کہاں ہے انسان اس مرحلے میں حیوانات کے بالکل ساتھ ساتھ ہے لیکن اس کو شرف و امتیاز کا ایک خاص درجہ بھی حاصل ہوا ہے یعنی وہ وجدان و ذوق اور ادراک و تعقل کے شرف سے بھی ممیز ہے۔اس کی فطری رہنمائی صرف اسی قدر نہیں ہے کہ وہ کھالے ،پی لے اور سو رہے ۔بلکہ انکی مدد سے وہ اپنے کاموں میں ایک نظم و ترتیب پیدا کرتاہے، جزئیات سے کلیات بناتاہے۔ برے اور بھلے میں امتیاز کرتا ہے اور اختیار وارادہ کی آزادی اور اپنی ذاتی قوت فیصلہ سے شر کو چھوڑتا اور خیر کو اختیار کرتا ہے۔اس مرحلہ کے بعد ہدایت و رہنمائی کا دوسرا درجہ ہے جو انبیاء ورسل کی بعثت سے ظہور میں آیا ہے۔اس مرحلے میں انسان کو جو کچھ ملا ہے وہ تمام تر انہی کلیات و مبادی پر مبنی ہے جن سے وہ ہدایت کے پہلے درجے میں سرفراز ہوا ہے۔

جس طرح بیج کے چند دانوں سے ہم ایک پورا لہلہاتا ہوا چمن تیار کر لیتے ہیں پا چند گٹھلیوں کو بوکر ایک پورا سر سبز وشاداب باغ اگا لیتے ہیں اسی طرح کشت فطرت کے چند دانوں کو بار ان رحمت کی پرورش ،باغبان فطرت کی رکھوالی اور انبیاء ورسل کی سعی و کاوش نے ایک چمن بنا دیا اور اس کا نا م شریعت ہوا۔لیکن فطرت کے اس عام دستور کے مطابق ،جواسکے کاروبار کی خصوصیت ہے یہ کام بتدریج عمل میں آیا، ایک ہی مرتبہ میں انجام نہیں پا گیا۔ پہلے کچھ انبیائؑ آئے جنہوں نے فطرت کی زمین کو ہموار کیا۔ پھر دوسرے آئے جنہوں نے اس زمین پر ایک داغ بیل ڈالی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو بھیجا جنہوں نے اس عمارت کو مسقف کیا یہاں تک کہ عمارت تیار ہو گئی۔ اس عمارت کا نام اسلام ہوا اور اس کا جامع اور مکمل نقشہ ہمارے ہاتھوں میں قرآن مجید ہے۔ یہ قرآن مجید جب اول اول دنیا کے سامنے آیا تو 3 جماعتوں کو اس نے براہ راست مخاطب کیا۔ 1۔ عرب: جن میں بیشتر مشرک تھے لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو دینِ ابراہیمی ؑکی فطری سادگی پر قائم تھے۔ 2۔ یہود: جو اپنی مسلسل شرارتوں اور سرکشیوں کی وجہ سے بالکل مسخ ہو چکے تھے۔

صرف ایک چھوٹی سی جماعت ان کے اندر حق پر باقی رہ گئی تھی۔ 3۔ نصاریٰ: ان کو بھی ان کے اگلوں کی کج رویوں نے گمراہ کر دیا تھا صرف تھوڑے سے لوگ رہ گئے تھے جو دین مسیح پر قائم تھے۔ ان تینوں جماعتوں میں سے قرآن مجید نے سب سے پہلے عربوں کومخاطب کیا۔ عربوں کی عام اخلاقی زندگی بعض فطری فضائل و محاسن سے خالی نہ تھی۔ لیکن یہ اپنے پیچھے شرک و بت پرستی کی ایک طویل تاریخ رکھتے تھے جن میں ان کی طبیعت اور دماغ کا سانچہ اس قدر بدل چکا تھا کہ قرآن مجید کی تعلیمات، جو سرتاسر فطری سادگی کے حسن و جمال سے آراستہ تھیں، ان میں بڑی مشکل سے سما سکتی تھی۔ چنانچہ ان کا بڑا طبقہ عرصہ تک قرآن کی تعلیمات سے نہ صرف بیگانہ رہا بلکہ اس کے مٹانے کیلئے پوری طرح زور لگاتا رہا۔ البتہ ان لوگوں کو قرآن مجید کے قبول کر لینے میں کوئی زحمت نہیں پیش آئی۔

جو دین ابراہیمی ؑکی فطری سادگی پر قائم اور شرک و بت پرستی سے پہلے ہی سے بیزار تھے انہوں نے قرآن مجید کی دعوت سنی تو ان کو ایسا محسوس ہوا کہ گویا اپنے ہی دل کی آواز سن رہے ہیں۔ پس وہ اس کی طرف لپکے اور اس کو قبول کر لیا۔ ان کو نہ تو معجزات کی ضرورت پیش آئی اور نہ اس بات کی کہ قرآن مجید ان کے سامنے بار بار پیش کیا جائے۔ یہ پیاسے تھے اس وجہ سے جونہی ان کے سامنے پانی پیش کیا گیا وہ اس کی طرف دوڑ پڑے۔ ان کی آنکھیں طلب ہدایت کیلئے کھلی ہوئی تھیں اور جن کی آنکھیں کھلی ہوں ان کو روشنی سے زیادہ عزیز کوئی شے نہیں ہوا کرتی۔ پس جس طرح آئینہ روشنی میں چمک جاتا ہے یہ بھی روشنی پا کر چمک اٹھے۔ قرآن مجید نے سورہ نور میں اس حقیقت کو یوں بیان فرمایا ہے کہ فطرت اور وحی، دونوں ایک ہی جنس کی چیزیں ہیں۔ یہ دونوں بندے کو ایک ہی سرچشمہ سے ملتی ہیں۔ صحیح فطرت کی مثال صاف و شفاف روغن کی ہے جو ہر طرح کی آمیزش اور ملاوٹ سے بالکل پاک ہے۔ اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ بغیر اسکے کہ اس کو آگ چھوئے، بھڑک اٹھنے کیلئے تیار رہتا ہے۔ پس جونہی وحی والہام کی چنگاری اس سے مس ہوتی ہے فوراً بھڑک اٹھتا ہے۔ ترجمہ: ’’اس کا روغن اتنا شفاف ہو کہ گویا آگ کے چھوئے بغیر ہی بھڑک اٹھے گا۔ روشنی کے اوپر روشنی، اللہ اپنے نور کی ہدایت جس کو چاہتا ہے بخشتا ہے۔ ‘‘ (النور 35-24)

اوپر ہم نے جس آیت کا حوالہ دیا ہے اس میں محسنین اور متقین سے ایسے ہی لوگ مراد ہیں۔ احسان کے معنی ایک تو وہی ہیں جو عام طور پر سمجھے جاتے ہیں۔ دوسرا ایک اور مفہوم اس کا یہ ہے کہ اپنے قول و فعل کو پورے اخلاص و صداقت، پوری ہمت و عزیمت اور نہایت خوبی و کمال کیساتھ انجام دینا۔ جنہوں نے فطرت اور وحی کی روشنی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اور باد مخالف کے جھونکوں سے اس کو گل ہونے نہیں دیا۔ ایسے لوگوں کی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جگہ جگہ تعریف فرمائی کہ اللہ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے۔ اللہ ان کے عمل کو ضائع نہیں کیا کرتا، قرآن ان کیلئے ہدایت و رحمت ہے یہ اسکو سمجھتے ہیں اور اسکی تعلیمات سے فیضیاب ہوتے ہیں۔

باقی رہی دوسری جماعت جس نے اپنی فطری صلاحیتیں بالکل برباد کر ڈالی تھیں تو اس کیلئے قرآن کی تعلیمات بالکل انوکھی تھیں وہ کسی طرح بھی ان کو سمجھ نہیں سکتی تھی۔ یہ تعلیمات جن فطری اصولوں پر مبنی تھیں وہ تمام اصول ان کے اندر سے مٹ چکے تھے اور ان کی جگہ بالکل غیر فطری معتقدات و اوہام نے لے لی تھی۔ چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے انکے سامنے قرآن پیش کیا تو انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔ سننے اور سمجھنے سے انکار کر دیا اور انکا یہ انکار درحقیقت انکے بہت سے سابق انکاروں کا لازمی نتیجہ تھا۔ انہوں نے ہدایت کے ابتدائی مراحل میں اس کو قبول کرنے سے اعراض کیا۔ اس لیے بعد کے مرحلوں میں بھی اس کا ساتھ نہ دے سکے اور ایسا ہونا قدرتی تھا۔