ماہِ ذی قعدہ کے فضائل ...... تحریر : مفتی محمد وقاص رفیع

ماہِ ذی قعدہ (جسے حج کا دوسرا مہینہ اور 4 عظمتوں والے مہینوں میں سے پہلا مہینہ کہا جاتا ہے) اسلامی تقویم کے اعتبار سے گیارہواں مہینہ کہلاتا ہے۔ اس مہینے کی عظمت و فضیلت کے لئے یہی کچھ کافی ہے کہ اس میں عام طور پر دُنیا بھر سے ’’حج‘‘ جیسی عظیم الشان عبادت اداکرنے کیلئے حجاجِ کرام حرمین شریفین کی طرف رخت سفر باندھ کر وہاں کی حاضری کی سعادت حاصل کرتے ہیں ، لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے ماہِ ذی قعدہ کو خصوصی شرف و فضیلت بخشی ہے اور اس کو اُن 4 مہینوں میں شامل فرمایا ہے کہ جن کی عظمت و بزرگی اسلام سے پہلے بھی تھی اور اسلام کے بعد بھی ہے ، اور وہ 4مہینے یہ ہیں : (1) ذی قعدہ (2) ذی الحجہ (3)محرم (4) رجب ۔

اسلام کے آغاز تک ان چاروں مہینوں میں جہاں عبادت و طاعت کی خاص فضیلت تسلیم کی جاتی تھی تو وہیں ان میں جہاد و قتال وغیرہ کرنا بھی منع سمجھا جاتا تھا ، اور اسلام میں تو اب بھی ان مہینوں میں عبادت و طاعت کی فضیلت برقرار ہے ۔ چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ترجمہ: جب سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اُس وقت سے (لے کر آج تک) مہینوں کی تعداد اللہ تعالیٰ کے یہاں بارہ (12) ہے ۔ ان میں سے4 مہینے (ذی قعدہ ، ذی الحجہ ، محرم اور رجب) عظمت و بزرگی والے ہیں ۔ یہی ہے سیدھا دین ۔ لہٰذا ان مہینوں میں اپنے اوپر ظلم مت کرو!…‘‘ (سورۂ توبہ : 10/36)

اور حدیث شریف میں حضرت ابو بکرۃؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جس دن سے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اُس دن سے لے کر آج تک زمانہ اُسی حالت پر گھوم پھر کر واپس آگیا (یعنی اب اس کے دنوں اور مہینوں میں کمی و زیادتی نہیں ہے جو زمانۂ جاہلیت میں مشرک کیا کرتے تھے، بلکہ اب وہ ٹھیک ہوکر اُسی طرز پر واپس آگیا ہے جس طرز پر اپنی ابتدائی اصلی صورت میں تھا ) ایک سال بارہ (12) مہینوں کا ہوتا ہے ۔ ان میں 4 مہینے عزت و حرمت والے ہیں ، جن میں 3 مہینے تو مسلسل ہیں یعنی ذی قعدہ ، ذی الحجہ ،اور محرم، اور ایک مہینہ ( جو اِن سے علیٰحدہ آتا ہے ) وہ رجب کا ہے جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان واقع ہے۔ (بخاری )

ایک مرتبہ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ایک صحابیؓ کو مخاطب کرکے ارشاد فرمایا کہ : ’’صبر یعنی رمضان کے مہینے کے روزے رکھو! اور ہر مہینے میں ایک دن کا روزہ رکھ لیا کرو! ‘‘ صحابیؓ نے عرض کیا کہ : ’’مجھے اس سے زیادہ کی طاقت ہے، لہٰذا میرے لئے مزید اضافہ فرمادیجئے! ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ہر مہینے میں 2 دن روزہ رکھ لیا کرو! ‘‘ صحابیؓ نے عرض کیا : ’’میرے اندر اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے اس لئے مزید اضافہ فرمادیجئے !‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ہرمہینے میں 3 دن روزے رکھ لیا کرو! ‘‘ صحابیؓ نے عرض کیا : ’’میرے اندر اس سے بھی زیادہ کی طاقت ہے اس لئے میرے لئے مزید اضافہ فرما دیجئے! ‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ حرمت والے مہینوں ( ذی قعدہ ، ذی الحجہ ، محرم اور رجب) میں روزہ رکھو اور چھوڑو!‘‘ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی 3 انگلیوں سے اشارہ فرماکر ان کو ساتھ ملایا پھر چھوڑ دیا ( مطلب یہ تھا کہ ان مہینوں میں 3 دن روزہ رکھا کرو! ، پھر 3 دن ناغہ کیا کرو!)اور اسی طرح کرتے رہا کرو!۔‘‘ (ابوداؤد)

حضرت سالم ؒ سے روایت ہے کہ ’’حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ حرمت و عظمت والے چاروں مہینوں ( ذی قعدہ ، ذی الحجہ ، محرم اور رجب) میں روزے رکھا کرتے تھے۔‘‘ (مصنف عبد الرزاق) امام نوویؒ نے بھی اپنے اصحاب کا یہ قول نقل کیا ہے کہ حرمت و عظمت والے ان 4 مہینوں ( ذی قعدہ ، ذی الحجہ ، محرم اور رجب) میں روزے رکھنا مستحب روزوں میں سے ہے۔ (المجموع شرح المہذب :6 /386) اسی طرح امام نوویؒ ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ : ’’ ماہِ رمضان کے بعد سب سے زیادہ جن مہینوں میں روزے رکھنے کا ثواب ملتا ہے وہ یہی 4 مہینے (ذی قعدہ ، ذی الحجہ ، محرم اور رجب) ہیں ۔‘‘ (روضۃ الطالبین:2/388)

قرآنِ مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جو یہ واقعہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو نئی شریعت اور کتاب دینے کے لئے کوہِ طور پر پہلے تیس (30) راتوں کا اعتکاف کرنے کا حکم فرمایا اور پھر مزید دس (10) راتوں کا اضافہ فرماکر کل چالیس (40) راتیں مکمل ہونے پر اُن کو شریعت اور کتاب (توریت) عطا فرمائی تو ان چالیس (40) راتوں کے بارے میں حضرات مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ چالیس (40) راتیں ذی قعدہ کے پورے مہینے اور ذی الحجہ کے پہلے عشرے کی تھیں ۔ چنانچہ امام ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ ’’حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اعتکاف کی میعاد عید الاضحی کے دن پوری ہوئی تھی اور اسی دن آپ ؑ کو اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کا شرف نصیب ہوا تھا۔‘‘ (تفسیر ابن کثیرؒ: 3/421)

بعض جاہل اور اَن پڑھ لوگ ذی قعدہ کے مہینے کو خالی کا مہینہ کہتے ہیں تو وہ شاید اس وجہ سے کہ یہ مہینہ اپنے سے پہلے اور بعد کے مہینوں کے برعکس عید الفطر و عید الاضحی وغیرہ سے خالی ہوتا ہے ،اورخالی کا مطلب وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس مہینے میں کسی نیک عمل و طاعت کی بالکل ضرورت نہیں ، یہ خیال بالکل غلط ، فاسد اور سراسر جہالت اور لاعلمی پر مبنی ہے اس سے بچنا چاہیے!۔

اسی طرح بعض لوگوں کا یہ خیال بھی ہے کہ چوں کہ یہ خالی کا مہینہ ہوتا ہے اس لئے اس مہینہ میں نکاح اور شادی وغیرہ بھی نہیں کی جاسکتی کہ کہیں وہ خیر و برکت سے خالی نہ رہ جائے ، چنانچہ اکثر و بیشتر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ ماہ شوال میں جلدی جلدی شادیاں کرکے فارغ ہوجاتے ہیں تاکہ کہیں ذی قعدہ کا مہینہ شروع نہ ہوجائے ،حالانکہ ماہِ ذی قعدہ سنہ 5 ہجری میں رسول اللہ صلی للہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اُم المومنین حضرت زینب ؓ سے نکاح فرمایا تھا ۔ (البدایہ والنہایہ : 4/166) اسی طرح ماہِ ذی قعدہ سنہ 7 ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے حضرت میمونہؓ سے نکاح فرمایا تھا ۔ (سیر اعلام النبلاء: 2/239)

الغرض ماہِ ذی قعدہ میں نکاح و شادی وغیرہ اور عبادات کرنے کو خیر وبرکت سے خالی سمجھنا یہ سب زمانۂ جاہلیت کی باتیں اور توہمات پرستیاں ہیں جن کا شریعت اور اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔اسی طرح بعض لوگوں میں یہ بات بھی مشہور ہے کہ اگر ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو ماہِ ذی قعدہ کے شروع ہونے پر مبارکباد دے تو اُس پر جنت واجب ہوجاتی ہے ، اور اس فضیلت کو سن کر بعض جاہل و ناداں لوگ ماہِ ذی قعدہ کے آغاز پر ایک دوسرے کو (سوشل میڈیا پر )مبارک باد دینا شروع کر دیتے ہیں ، سو! یاد رکھناچاہیے کہ اس طرح کی کوئی بات بھی نہ شریعت میں وارد ہوئی ہے اور نہ ہی شریعت سے ثابت ہے۔