احمدراہی… .... عبدالحفیظ ظفر


ایک ناقابل فراموش شاعر
دل کے افسانے نگاہوں کی زُ باں تک پہنچے
احمد راہی ایک ایسا شاعر ہے جن کا نام سنتے ہی زبان سے واہ واہ نکلتی ہے۔ دراصل ان کے ادبی کارنامے اتنے زبردست ہیں کہ ان پر دادو تحسین کے ڈونگرے برسانے کے سوا کچھ اور نہیں سوجھتا۔ بہت لوگ ایسے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ احمد راہی نے صرف پنجابی زبان میں شاعری کی۔ کچھ کا خیال ہے کہ انہوں نے صرف پنجابی نغمات لکھے۔ یہ دونوں باتیں درست نہیں ۔ احمد راہی نے شروع شروع ہی اردو میں شاعری کی۔ بعد میں وہ پنجابی کی طرف آئے۔ انہوں نے انجمن ترقی مصنفین کی سرگرمیوں میں بھی بھرپور حصہ لیا۔12 نومبر 1923 کو امرتسر میں پیدا ہونے والے احمد راہی کا اصل نام غلام احمد تھا۔ انہوںنے شاعر، ادیب اور سکرین رائٹر کی حیثیت سے بڑا نام کمایا۔ غلام احمد کا نام ان کے روحانی رہنما خورشید احمد نے رکھاتھا۔ 1940 میں انہوں نے امر تسر سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی۔ ہائی سکول سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ایم اے اوکالج لاہور میں داخلہ لے لیا لیکن سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں انہیں نکال دیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے والد کے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹانا شروع کر دیا۔ ان کے والد اونی شالوں کا کاروبار کرتے تھے۔ 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد وہ لاہور آگئے اور ادبی جریدے ’’سویرا‘‘ کے ایڈیٹر کی حیثیت سے فرائض سرانجام دینے لگے۔ اس وقت ان کی ماہانہ تنخواہ 25 روپے تھی۔ انہوں نے 1947ء کے فسادات اور خونریزی کے بارے میں بہت کچھ لکھا۔ انہوں نے ذاتی تجربوں کے حوالے سے ان فسادات کے بارے میں جو لکھا وہ روح فرسا ہے۔ فسادات کے بارے میں سعادت حسن منٹو اور کرشن چندر جیسے فسانہ نگاروں نے بھی دل دہلا دینے والے افسانے تحریر کیے ہیں۔ انہوں نے ایسے ایسے واقعات کو قلم کی زبان دی جن کی وجہ سے انسانیت چیخ اٹھی۔ 1947ء میں مذہبی اور فرقہ وارانہ تعصبات عروج پر تھے۔ رواداری جرم بن گئی اور عدم برداشت عنقا۔ ان واقعات کا احمد راہی پر اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے اس موضوع پر دو کتابیں لکھیں۔ ان کی پہلی کتاب ’’ترنجن‘‘1952 میں شائع ہوئی۔ جبکہ دوسری کتاب کا نام تھا ’’نمی نمی وا‘‘ ہے۔ یہ دونوں پنجابی شاعری کی کتابیں ہیں۔احمد راہی، سیف الدین سیف اور فیض احمد فیض لاہور کے ایک مشہور ریسٹورنٹ میں بڑی باقاعدگی سے بیٹھتے تھے۔ جب وہ امر تسر میں تھے تو اس وقت ساحر لدھیانوی، منیر نیازی، اشفاق احمد اور ابن انشا سے بھی ان کی بڑی دوستی تھی۔ پاکستان میں انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینا شروع کر دیا۔احمد راہی نے پہلے اردو زبان میں فلمی گیت تحریر کیے بعد میں انہوں نے پنجابی فلموں کیلئے نغمات لکھے۔ ان کی فلمی شاعری اتنی اثر انگیز تھی کہ ہر طرف ان کے نام کا ڈنکا بج گیا۔ پاکستان میں ویسے تو بڑے زبردست نغمہ نگار موجود تھے جن میں قتیل شفائی، سیف الدین سیف اور تنویر نقوی کے نام لیے جا سکتے ہیں لیکن احمد راہی کامقام ومرتبہ سب سے الگ تھا۔ انہوں نے مجموعی طور پر51 فلموں کیلئے گیت لکھے جن میں 9 پنجابی زبان کی فلمیں تھیں۔احمد راہی کی اردو شاعری کی کتاب ’’رگ جاں‘‘ بھی شائع ہوئی اور انہوں نے اردو شاعری میں بھی اپنے نام کا سکہ جمایا۔ یہ بات حیران کن بھی ہے اور کسی حد تک افسوسناک بھی کہ قتیل شفائی کے بے شمار شعری کلیات ہیں لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ ان کو شہرت ان کے فلمی گیتوں کی وجہ سے ملی۔ یہی احمد راہی کے لیے بھی کہا جا سکتا ہے۔ احمد راہی بڑے راست گو اور سچے آدمی تھے۔ بے باکی اور صاف گوئی ان کے وہ اوصاف تھے جن کی وجہ سے ان سے گفتگو کے دوران بڑا محتاط رہنا پڑتا تھا۔ فلم ’’ہیر رانجھا‘‘ کے گانوں کی ریکارڈنگ کے دوران کسی بات پر ان کا میڈم نور جہاں سے جھگڑا ہو گیا اور کئی دن تک دونوں میں بول چال نہیں رہی۔ کچھ لوگوںنے صلح کرانے کی کوششیں کیں لیکن احمد راہی اس پر تیار نہ ہوئے۔ ان کے بقول وہ اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرسکتے۔ آخر کار میڈم نورجہاں کو ہی ان سے معذرت کرنا پڑی۔ احمد راہی ایک سخت گیر نقاد تھے اور کم ہی دوسروں کی توصیف کرتے تھے۔ شاعری میں ان کا معیار بہت بلند تھا اورانہیں مطمئن کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ وہ فیض احمد فیض اور احمد ندیم قاسمی سے بہت متاثر تھے اور بطور انسان بھی ان کا بہت احترام کرتے تھے۔ فلمی شاعری میں وہ سب سے زیادہ تنویر نقوی سے متاثر تھے۔ ویسے تو وہ قتیل شفائی اور سیف الدین سیف کو بھی بہت پسند کرتے تھے کیونکہ وہ ان کے قریبی دوست تھے۔ لیکن ان کے خیال میں تنویر نقوی کا کوئی ثانی نہیں۔ احمد راہی کی ادبی خدمات پر انہیں تمغہ برائے حسن کارکردگی بھی دیا گیا۔ہم ذیل میں اپنے قارئین کے خدمت میں ان کی اردو غزلوں کے کچھ اشعار پیش کر رہے ہیں۔1۔ کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب بات میں تیری بات نہیں صدشکر کر اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی بات نہیں2۔ آگے کچھ لوگ ہمیں دیکھ کے ہنس دئیے تھےاب یہ عالم ہے کوئی دیکھنے والا بھی نہیں3۔ تم تو کہتے تھے بہار آئی تو لوٹ آئوں گامیں لوٹ آئو میرے پر دیسی بہار آئی ہے4۔ عام ہے کوچہ وبازار میں سرکار کی باتاب سرراہ بھی ہوتی ہے سردار کی بات5۔ چاند کے پہلو میں دم سا دھ کے روتی ہے کرن آج تاروں کامنوں خاک نظر آئے گااب ذرا ان کی پنجابی شاعری ملاحظہ کریںجے تو چھڈ کے ٹر جانا سیپیا ردی کھیڈرچائی کیوں سیدے کے قول جے پھر ناسیدل دی بازی لائی کیوں سیتیری آں تا نگھاں ہر دم مینوںحال میرے دی خبر نہ مینوںدرد ی نہ کوئی میرا ویری ہزاراںڈھول بلو چا موڑ مہاراںرکھ ڈولدا تے اکھ نئیں لگدیتے نمی نمی واوگدیاحمد راہی کی پنجابی نظمیں بھی نہایت متاثرکن ہیں جن میں وہ تخیل کی بلندیوں پر نظر آتے ہیں۔ان کی نظموں کے موضوعات میں بہت تنوع ہے اور ان کی شاعری کا کینوس بہت وسیع ہے۔ اب ہم ذیل میں ان کچھ مشہور پنجابی اور اردو نغمات کا ذکر کر رہے ہیں1 ۔چن ماہی آ تیری راہ پئی تکنی آں( ہیر رانجھا)2۔ سنجے دل والے بوہے( مرزا جٹ)3۔جٹی چلی مربیاں دی سیرنوں( یکے والی)4۔ میری چنی دیاں ریشمی تنداں(جٹی)5۔مٹیارو میرے ہان دیو(مرزا جٹ)6۔ دل کے افسانے نگاہوں کی زباں تک پہنچے( باجی) 7۔چندا توری چاندنی میں( باجی)8۔ برے نصیب میرے(چھو منتر)دو ستمبر 2002 ء کو اس بے مثل شاعر کا انتقال ہو گیا ۔ احمد راہی کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ٭…٭…٭