حفیظ تائب اور احمد ندیم قاسمی


حفیظ تائب کا اصل نام عبدالحفیظ تھا اور وہ 14 فروری 1931ءکو پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ اردو کے جدید نعت گو شعرا میں حفیظ تائب کا نام بڑی اہمیت کا حامل ہے ان کے نعتیہ مجموعوں میں صلو علیہ و آلہ، سک متراں دی، وسلمو تسلیما، وہی یٰسیں وہی طہٰ، لیکھ، نسیب، تعبیر اور بہار نعت شال ہیں جبکہ نثری کتب میں باب مناقب، پن چھان، پنجابی نعت (تحقیقی جائزہ)، کوثریہ اور کتابیات سیرت رسول کی نام سرفہرست ہیں۔حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔حفیظ تائب 12 جون 2004ءکو لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ

اقبال ٹاﺅن، کریم بلاک کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔



آئے ہیں جب وہ منبر و محراب سامنے

تسکیں کے کھل گئے ہیں کئی باب سامنے

کیوں جگمگا اُٹھے نہ شبِ تارِ زندگی
جب ہو رُخِ رسول ﷺ کا مہتاب سامنے

پایا ہے لطفِ سرورِ عالم کو چارہ ساز
جب ہو نہ کوئی صورتِ اسباب سامنے

سوئے حجاز قافلہ ء شوق ہے رواں
دریائے اضطراب ہے پایاب سامنے

اس زور سے دھڑکنا یہاں پر روا نہیں
اُن کا حرم ہے اے دلِ بے تاب سامنے

کس شان سے حضور ﷺ ہیں مسجد میں جلوہ ریز
کتنے ادب سے بیٹھے ہیں اصحاب سامنے

تائب فضائے شہرِ نبی ﷺہے خیال میں
یا خلد کا ہے منظرِ شاداب سامنے


حفیظ تائب