کس کی معلومات لیک کی گئیں جو معاملہ حساس بن گیا؟


اسلام آباد ہائی کورٹ نے سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ارسلان ظفر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے ایس ای سی پی کو اُن کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے آئندہ سماعت تک روک دیا ہے۔


چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق فوجی افسر کے معاملے پر ایس ای سی پی کے متحرک ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ ادارہ آزاد نہیں ہے اور خود اپنی شرمندگی کا سامان فراہم کر رہا ہے۔


بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سنیچر کو جب چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایس ای سی پی کے افسر ارسلان ظفر کو ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے شوکاز نوٹس کے خلاف دائر کردہ درخواست پر سماعت شروع کی تو ایس ای سی پی کے وکیل شاہد باجوہ بغیر نوٹس کے عدالت کے سامنے پیش ہو گئے۔


یاد رہے کہ ایس ای سی پی نے چند روز قبل پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے سربراہ اور معاونِ خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ کی کمپنیوں کی شیئر ہولڈنگ کی تفصیلات مبینہ طور پر شیئر کرنے کے الزام اپنے چند ملازمین کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے تھے۔


جب چیف جسٹس نے شاہد باجوہ کی عدالت میں موجودگی کے حوالے سے استفسار کیا تو انھوں (شاہد باجوہ) نے بتایا کہ وہ عدالتی نوٹس وصول کرنے آئے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کو کیسے معلوم کہ یہ عدالت نوٹس کرے گی تو وکیل شاہد باجوہ بولے ایس ای سی پی نے ’کنفیڈنشل رپورٹ‘ لیک ہونے پر آٹھ ملازمین کو شوکاز نوٹس دیا ہے۔


چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ایس ای سی پی اپنے رویے سے خود کو شرمندہ کر رہا ہے۔


چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’کس (کمپنی) کی معلومات لیک کی گئیں جو معاملہ حساس بن گیا؟ ایس ای سی پی اپنے رویے سے معاملے کو مشکوک بنا رہا ہے۔‘


انھوں نے کہا کہ پہلے بتائیں یہ کمپنی کس کی ہے؟ ایس ای سی پی کے وکیل کی جانب سے جواب دیا گیا کہ یہ کمپنی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کی ہے۔


چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’یہ عاصم سلیم باجوہ کی کمپنی ہے، اس وجہ سے انکوائری شروع کی گئی۔‘


ان کا مزید کہنا تھا کہ ایس ای سی پی کا رویہ اس درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کے لیے کافی ہے۔ انھوں نے کہا کہ شیئر ہولڈنگ کی معلومات پبلک کرنا کیسے خفیہ اور حساس معاملہ بن گیا؟ایس ای سی پی کے وکیل بولے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے سربراہ اور معاونِ خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ کی کمپنیوں کی شیئر ہولڈنگ کی تفصیلات شیئر کی گئیں تھیں۔


چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’ریگولیٹر کی جانب سے معلومات پبلک کی جاتی ہیں، اس سے ہی احتساب ہوتا ہے، یقین ہے وزیر اعظم کو اس تمام معاملے سے باخبر رکھا گیا ہو گا۔‘


عدالت نے ایس ای سی پی وکیل سے استفسار کیا کہ ’کیا آپ نہیں چاہتے کہ ہر شخص کا احتساب ہو، مجھے یقین ہے یہ بات وزیراعظم کو پتہ نہیں ہو گی وہ تو احتساب چاہتے ہیں۔‘چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایس ای سی پی اس کیس میں دلچسپی کیوں لے رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو چیز مسئلہ نہیں تھی اسے مسئلہ بنا دیا گیا۔


ابھی آپ نے بہت کچھ بتانا ہے یہ پبلک انٹرسٹ کا معاملہ ہے، پچھلے پانچ سال میں پبلک ہونے والی دیگر رپورٹس پر ایس ای سی پی کی کتنی انکوائریاں ہوئیں۔


ایس ای سی پی آئندہ سماعت تک ارسلان ظفر کے خلاف کارروائی نہ کرے، اور ارسلان ظفر شوکاز نوٹس کا جواب دیں۔


عدالت کی جانب سے ارسلان ظفر کو شوکاز نوٹس کا جواب جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ایس ای سی پی کو نوٹس جاری کر کے 12 اکتوبر تک جواب جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔


https://www.bbc.com/urdu/pakistan-54310163