فراق گورکھپوری

وہ آنکھ زبان ہو گئی ہے
ہر بزم کی جان ہو گئی ہے
آنکھیں پڑتی ہیں میکدوں کی
آ نکھ جوان ہو گئی ہے
آئینہ دکھا دیا کس نے
دیا حیران ہو گئی ہے
اے موت بشر ی زندگانی آج
تیرا احسان ہو گئی ہے
کچھ اب تو امان ہو کہ دنیا
کتنی ہلکان ہو گئی ہے
انسان کو خریدتا ہے انسان
دنیابھی دکان ہو گئی ہے
ہر بیت فراق اس غزل کی
ابرو کی کمان ہو گئی ہے
---