منظر مفتی

کتنی دلچسپ یہ پہیلی ہے
زندگی موت کی سہیلی ہے
ہائے مشّاطگی زمانے کی
زیست اب تک نئی نویلی ہے
حاصل غم حیات کو سمجھے
ہر مصیبت خوشی سے جھیلی ہے
زندگی ہے، چراغِ گور سہی
چاند تاروں کے ساتھ کھیلی ہے
اک تری آنکھ کے اشارے پر
دشمنی دوستوں سے لے لی ہے
دل حسینوں کو کون دے منظرؔ
اپنا بچپن کا یار بیلی ہے

------